پارلیمانی سیکریٹری سردار مسعود علی خان لونی کی, جانب سے, دائر کی گئی, درخواست مسترد

پارلیمانی سیکریٹری سردار مسعود علی خان لونی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد

بلوچستان:اے ٹی سی کے جج محمد علی کاکڑ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اپیل مسترد کردیا جس کے بعد مسعود علی خان لونی کو عدالت کے احاطے سے حراست میں لے لیا گیا

صوبائی حکمراں جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی کو لورالائی کی ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف ڈوکی پولیس اسٹیشن میں 2018 کے اوائل میں قبائلی رہنما سردار میر غوث کبزئی کو اغوا کرنے کے الزام پر مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔
سردار میر غوث کبزئی کے اہل خانہ کی مدعیت میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 شامل کی گئی تھی۔
سردار مسعود علی خان لونی جنگلات اور جنگلی حیات کے پارلیمانی سیکریٹری ہیں اور ذرائع کے مطابق ان کا سردار میر غوث کبزئی سے کوئلے کی کان پر تنازع تھا۔
قبل ازیں صوبائی رکن اسمبلی اور سردار میر غوث کبزئی کے درمیان قبائلی روایات کے مطابق صلح ہوگئی تھی اور قبائلی رہنماؤں نے مسعود علی خان لونی کو معاف کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
دوسری جانب ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ شامل کرلی گئی تھی جس کے باعث ریاست اور عدالت کی نظر میں مصالحت قبول نہیں کی گئی۔
صوبائی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) لورالائی کی رہائش گاہ کو 30 روز کے لیے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔
سیکریٹری داخلہ نے مسعود علی خان لونی کو جیل سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی رہائش گاہ منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق اے ڈی سی آر کی رہائش گاہ کو طبی بنیادوں پر سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

کوئٹہ: بدرالدین کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ کا ایوانِ صنعت و تجارت قانونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے