ہواوے, کی جانب, سے امریکی, حکومت کے, خلاف کیے, گئے مقدمے میں, موقف

ہواوے کی جانب سے امریکی حکومت کے خلاف کیے گئے مقدمے میں موقف

چین: مذکورہ کمپنی پر امریکی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ چینی خفیہ اداروں کو معلومات فراہم کرسکتی ہے

ہواوے کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹیکساس کی ڈسٹرک عدالت میں 2019 کے دفاعی بل کو چیلنج کردیا گیا ہے جس میں حکومتی اداروں کو کمپنی کے آلات خریدنے اور ایسی تھرڈ پارٹی کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا گیا تھا جو ہواوے کے صارفین ہوں۔
ہواوے کی جانب سے یہ اقدام عالمی سطح پر اس جانب اشارہ ہے ہائی اسپیڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے مستقبل، 5 جی ٹیکنالوجی کی دوڑ سے روکے جانے پر کمپنی عدالتوں سمیت ہر راستہ اپنانے کو تیار ہے۔
ہواوے کے چیئرمین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’امریکی کانگریس ہواوے کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کی وجہ بننے والے شواہد پیش کرنے میں باربار ناکام ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس قانون کو ہٹا دیا جائے تو ہواوے امریکا میں بہترین 5 جی نیٹ ورک بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کرسکتی ہے جبکہ اس پابندی سے کمپنی کو ناقابلِ شمار نقصان ہورہا ہے۔
چین میں کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی حکومت نے کمپنی کو محدود کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا‘۔
امریکی حکومت پر ہیکرز کی مدد سے اپنے سرورز کو ہیک کرنے اور ای میل اور سورس کوڈ چرانے کا الزام عائد کیا تھا۔
امریکی حکومت طویل عرصے سے ہواوے کو اس کے بانی رین زینگفائی کے سابقہ فوجی انجینئر ہونے کی وجہ سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔
یہ خدشات اس وقت مزید زور پکڑ گئے جب ہواوے نے دنیائے ٹیلی کام میں ترقی کرتے ہوئے ایپل اور سام سنگ کے ساتھ تیسری بڑی کمپنی بن کر ابھری۔
ہواوے کی جانب سے امریکی حکومت کے خلاف کیے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’یہ عدالتی یا حکومتی طاقت کا غیر آئینی مظاہرہ تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں

منامہ کانفرنس کی ناکامی پر امریکا کی جانب سے اعتراف

منامہ کانفرنس کی ناکامی پر امریکا کی جانب سے اعتراف

مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے