مسجد کے سامنے بیلی ڈانس کرنے پر گلوکارہ کی معافی

گلوکارہ رضیدہ گانیولینا کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی میوزک ویڈیو میں انھیں بولگر کے قصبے میں واقع سفید مسجد کے سامنے بیلی ڈانس کرتے دکھایا گیا ہے۔

ایک مقامی ویب سائٹ کے مطابق اس حوالے سے تاتارستان کے مفتی کا کہنا تھا کہ ’مسجد رقص کرنے کی جگہ نہیں ہے۔‘

ویڈیو کے حوالے سے ایک اور مقامی امام کا کہنا ہے کہ یہ توہینِ اسلام کے مترادف ہے اور اس ویڈیو پر پابندی لگائی جائے۔

ادھر گلوکارہ نے سماجی رابطوں کے سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں معافی مانگی ہے۔

اس حوالے اس انھوں نے لکھا ہے کہ ’ہر کوئی اپنی ذہنیت کے مطابق چیزوں کو دیکھتا ہے، اگر اس ویڈیو سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔‘

گلوکارہ کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مذہبی رہنماؤں کی عزت کرتی ہیں تاہم اس کے ساتھ انھوں نے کہا ہے کہ ’ بیلی ڈانس بے حیائی نہیں ہے بلکہ یہ فن ہے۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے اس ویڈیو کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ادھر دوسری جانب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ویڈیو سے صرف مذہبی رہنما ہی ناراض ہیں کیونکہ یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو پر صارفین کی جانب سے دیے گئے کمنٹ زیادہ تر مثبت ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کی گلوکارہ کی جانب سے مسجد کا انتخاب کوئی سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ مسجد کی خوبصورتی کے باعث وہاں ویڈیو شوٹ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

تہران: ایرانی رضاکار فورس بیسج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے