تارکین وطن کے لیے لیبیا میں کیمپ کی تجویز

ان کے مشورے کے مطابق یہ کیمپ یورپی یونین کو بنانا چاہیے اور مستقبل میں اس کیمپ کی ذمہ دار لیبیا کی حکومت ہوگی۔ پناہ گزینوں سے متعلق ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن کا موقف کافی سخت رہا ہے۔

ویانا میں بلقان اور یورپ کے رہنماؤں کے درمیان ایک اجلاس کے موقع پر انھوں نے یہ تجویز پیش کی۔

2011 میں لیبیا میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد سے ہی وہاں پر کشیدگی کا ماحول ہے جہاں حکومت اور باغیوں کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش جاری ہے۔

ہنگری کے وزیراعظم پناہ گزینوں کی یورپ آمد کو روکنے کے لیے اپنے ملک کی جنوبی سرحد کو کھار دار تار سے سیل کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام بیرونی سرحدوں پر مکمل نگرانی کرے۔

ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کو ہتھیار فروخت کرنے پر عائد پابندی منسوخ کر دی جانی چاہیے اور مغربی ممالک کو باغیوں کے گروپ لیبیا لبریشن آرمی کی مدد کریں۔

ادھر جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ افریقی ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جائیں تاکہ جو پناہ گزین پناہ کے مستحق نہیں ہیں انھیں ان کے ملک واپس بھیجا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا معاہدہ کسی ایک تیسرے ملک، خاص طور پر افریقہ میں، کے ساتھ تو ضروری ہے لیکن پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بھی ہونا چاہیے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ جو افراد پناہ کے مستحق نہیں ہیں انھیں ان کے ملک واپس بھیجا جا سکے۔

میرکل نے کہا کہ یورپی یونین کو انسانی سلوک کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے غیر قانونی پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے بھی بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو پارٹی کو تارکینِ وطن کے متعلق پالیسی کی وجہ سے ہی شکست ہوگئی تھی۔

خیال رہے کہ جرمنی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دے رہا ہے جن کی گذشتہ سال تعداد 11 لاکھ تھی۔

یہ بھی پڑھیں

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

تہران: امریکا کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے کے صدر ٹرمپ کے دعوے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے