پاکستان میں ماہرینِ نفسیات, اور ذہنی, امراض کی تھیراپی, کرنے والوں, کی شدید, کمی ہے

پاکستان میں ماہرینِ نفسیات اور ذہنی امراض کی تھیراپی کرنے والوں کی شدید کمی ہے

اس وقت پاکستان میں ’20 کروڑ لوگوں کے لیے صرف 1500 لائسنس یافتہ پروفیشنل ہیں’
ری لیو ناؤ میں مریض اپنی مرضی کے اوقات میں فون یا ویڈیو کال کے ذریعے اپنے سائیکالوجسٹ سے مدد لیتا ہے

ایک ایسی ہی مریض ہیں جو ایک طویل عرصے تک اپنی ذہنی بیماری سے تن تنہا لڑنے کے بعد اب اس سروس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’ایک عرصے تک میں ذہنی تناؤ کا شکار رہی اور اس ڈر سے کہ لوگ کیا کہیں گے میں کبھی کسی سائیکالوجسٹ کے بارے میں سوچتی بھی نہیں تھی۔ مگر پھر مجھے اس آن لائن سروس کے بارے میں پتہ چلا جس میں مجھے گھر سے باہر نکلے بغیر ہی میرے مسئلے کا حل مل گیا۔‘
نادیہ سے ملاقات کے دوران ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کبھی ذہنی مسائل کا شکار رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ‘صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں مینٹل ہیلتھ کے مسائل کو بدنامی کا داغ سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کو کوئی ذہنی مسئلہ ہے تو آپ پاگل ہیں۔’
ان کا کہنا تھا کہ ’شروع شروع میں تو یہ ہوتا تھا کہ بولتے بولتے بھی مجھے رونا آ جاتا تھا اور پھر آپ کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کہ آپ کا یہ حال کیوں ہے۔
سائیکالوجسٹ سے آن لائن رابطے کے نتیجے میں نہ تو یہ ڈر رہا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے بلکہ وہ ان سے وہ باتیں بھی کر سکتی ہیں جو شاید وہ اپنے اہلخانہ یا دوستوں کو کبھی نہ بتا سکیں۔
’آن لائن سیشن کے دوران میں اپنے سائیکالوجسٹ کو تمام مسائل بتا سکتی تھی۔ اگر تھوڑا بھی جاننے والا ہوتا تو شاید میں کھل کر ان سے بات نہ کر پاتی۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ آپ اس طرح کی مدد لے رہے ہیں تو وہ آپ کو پاگل سمجھنے لگتے ہیں۔’
آمنہ نے اس سروس کے بارے میں مزید بتایا کہ ان کے پاس کچھ ایسے بھی مریض رجسٹرڈ ہوئے ہیں جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں لیکن یہ سروس آن لائن ہونے کی وجہ سے وہ وہاں سے سیشن لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذہنی مرض کو ایک عام بیماری ہی سمجھا جائے۔
انھوں نے ذہنی مسائل کو بخار سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘جب آپ کو بخار ہوتا ہے تو آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور دوا لیتے ہیں۔ اسی طریقے سے مینٹل ہیلتھ ہے۔ اگر آپ اچھا نہیں محسوس کر رہے تو یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ سائیکالوجسٹ کے پاس جائیں۔ ورنہ یہ آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صحتمند دل, کے, لیے ناشتہ, ایک آسان, حل ہے

صحتمند دل کے لیے ناشتہ ایک آسان حل ہے

ماہرین نے لکھا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ ناشتہ چھوڑنے اور دل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے