سانحہ کوئٹہ پر عدالتی کمیشن کا قیام مسترد

سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر غنی خلجی ایڈووکیٹ نے اعلان کیا کہ ‘ہم عدالتی کیمشن کو قبول نہیں کرتے’۔ اجلاس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، جسٹس محمد نور ماشکانزئی، ہائی کورٹ کے ججز، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے افسران اور ملک کے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء رہنما موجود تھے

غنی خلجی کا کہنا تھا کہ ‘اخلاقی طور پر بلوچستان کی صوبائی حکومت کو سانحہ کوئٹہ میں معصوم لوگوں کی ہلاکت پر مستعفی ہوجانا چاہیے تھا’۔

دوسری جانب وکلاء نے سانحہ کوئٹہ پر ملک گیر احتجاج کی کال بھی دے دی ہے،اس کے علاوہ وکلاء کی تنظیم نے آج جنرل باڈی کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا ہے تاکہ ملک گیر احتجاج کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

اس موقع پر علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ وکلاء نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کےلیے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ کوئٹہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے گذشتہ روز ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا،جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ سانحہ کوئٹہ کی تحقیقات کےلیے بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس جمال مندوخیل پر مشتمل عدالتی کمشین قائم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

بگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں واحد ایک روزہ میچ 1996 میں کھیلاگیا تھا

بگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں واحد ایک روزہ میچ 1996 میں کھیلاگیا تھا

کوئٹہ: میزبان ٹیم 28 سے 31 اکتوبر تک خیبر پختونخوا جبکہ 4 سے 7 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے