مذاکرات, کے دوسرے دور ,کے لیے, آج ویتنام, میں, ملاقات

مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آج ویتنام میں ملاقات

شمالی کوریا: امید کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات میں ماضی کے حریفوں کے درمیان شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پرکسی قسم کا معاہدہ طے پا جائے گا

ان مذاکرات میں اُسی موضوع پر بات کی جائے گی جو گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں کی گئی تھی۔ یعنی شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار۔
دنیا کے بیشتر ممالک کی یہ خواہش ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کو ترک کردے۔ اس عمل کو عموماً ’ڈی نیوکلئیرآئزیشن‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن شمالی کوریا بار بار یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ ایسا تب تک نہیں کرے گا جب تک اسے امریکہ اور دوسرے ممالک سے خطرہ محسوس ہونا بند نہیں ہو جاتا۔
شمالی کوریا کے اس مؤقف کی وجہ سے اسے پابندیوں کا سامنا ہے جو اسے باقی دنیا سے وسیع تر تجارت اور معمول کے تعلقات سے روکتی ہیں۔
کم اور ٹرمپ جب آخری دفعہ ملے تھے تو انھوں نے سنگاپور اعلامیہ پہ دستخط کیے تھے جس میں تفصیلات مبہم تھیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ امن اور جوہری ہتھیار ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں لیکن انھوں نے اس پر اتفاق نہیں کیا تھا کہ اس کا مطلب کیا ہے اور یہ کیسے ہو گا۔
شمالی کوریا نے اپنی جوہری تجربہ گاہوں کو تباہ کر دیا ہے لیکن ان کو اب ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کو یہ معلوم ہے کہ ان کے جوہری ہتھیار کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
ایک سینئر امریکی انٹیلیجنس اہلکار نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کبھی اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کرے گا کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جوہری ہتھیار ‘ان کی حکومت کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں۔’
گذشتہ چند ہفتوں میں صدر ٹرمپ اپنے عزائم سے پیچھے ہٹتے نظر آئے ہیں، انھوں نے کہا ہے کہ جب تک شمالی کوریا میزائل یا جوہری بموں کے مزید تجربات نہیں کرتا وہ خوش ہیں۔ یہی اس وقت کی صورت حال ہے۔
امریکہ شمالی کوریا پر اس کی جوہری ٹیکنالوجی کی مکمل فہرست فراہم کرنے کے لیے بھی زور ڈال سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جس پر وہ کبھی تیار نہیں تھے۔
جوہری بم سب سے زیادہ تباہی مچانے والے ہتھیار ہیں۔ چند ممالک کے علاوہ دنیا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اب کسی اور ریاست کو نئی جوہری قوت نہیں بننا چاہیے۔ شمالی کوریا نے جوہری صلاحیت حاصل کر کے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
جوہری صلاحیت والی ریاست سے صرف یہ خطرہ نہیں ہوتا کہ وہ غصے میں آ کر ان ہتھیاروں کا استعمال کر سکتی ہے بلکہ وہ یہ ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو بیچ بھی سکتی ہے، اس سے کوئی ایسی غلطی ہو سکتی ہے جس سے بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے اور اس کی حکومت گرنے کی صورت میں جوہری ہتھیار غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتے ہیں۔
اگر شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تو اس سے دوسری ریاستوں کو بھی جوہری صلاحیت رکھنے کی حوصلہ افزاہی ہو گی۔
جی ہاں، ممکنہ طور پر یہ خطرہ ہے۔ شمالی کوریا متعدد بار یہ کہ چکا ہے کہ خطرے کی صورت میں وہ جوہری اورروایتی ہتھیاروں کے استعمال سے نہیں گھبرائے گا۔
شمالی کوریا کے اس مؤقف سے اس کے پڑوسی ملک، جنوبی کوریا اور جاپان، سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ لیکن شمالی کوریا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل بھی موجود ہیں جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
گذشتہ برسوں میں شمالی کوریا کی جانب سے سائبر سکیورٹی کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
متعدد تجزیہ نگار اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اگر شمالی کوریا نے کبھی تنازعہ شروع کرنے کی کوشش کی تو یہ کم جانگ ان کی حکومت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔
تکنیکی طور پر جی ہاں۔ کوریائی جنگ باضابطہ طور پر ختم ہوئی لیکن امن معائدے پر کبھی دستخط نہیں کیے گئے۔
جنگ کے بعد معاہدے کے مطابق اس وقت بھی 23 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار جنوبی کوریا میں تعینات ہیں اور وہ باقاعدگی سے جنوبی کوریا کے فوجیوں کے ساتھ تربیتی مشقیں بھی کرتے ہیں۔
مذاکرات کا ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی قسم کے امن اعلامیہ کا اعلان ہو جائے، جو یقیناً کم کی خواہش ہے۔
یہ کوئی باضابطہ امن معاہدہ نہیں ہو گا، اس قسم کا معاہدہ مرتب کرنا ایک پیچیدہ سیاسی عمل ہوتا ہے جس کے عملی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایک علامتی حیثیت رکھے گا جس سے دونوں رہنماؤں کی ان کے ملکوں میں مثبت تصویر جائے گی۔
ویتنام ایک کمیونسٹ ملک ہے اور اس کی شمالی کوریا کے ساتھ سیاسی مشابہت ہے۔ اس کے علاوہ ویتنام کی امریکہ کے ساتھ تنازعہ کی بھی ایک تاریخ ہے۔
اگر شمالی کوریا دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تو وہ ویتنام کی پیروی کر سکتا ہے۔ کم وہاں کی صنعت اور تجارت کے جائزے پر بھی کچھ وقت لگائیں گے۔
اگر وہ امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو انھیں اپنے ملک کی اشرافیہ کو رضا مند کرنا پڑے گا کہ اس معاہدے سے انھیں بہت کچھ حاصل ہوگا۔
کم کو احتجاج کے بارے میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ویتنام کسی قسم کے مظاہروں کی اجازت نہیں دے گا اور ان مذاکرات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ط
شمالی کوریا کی حکومت دنیا کی سفاک ترین حکومتوں میں سے ایک ہے جس کا اپنی عوام کی زندگی پر مکمل کنٹرول ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق شمالی کوریا کے ایک کروڑ سے زائد لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔
گذشتہ برسوں میں پابندیوں کے باوجود سیاسی اور شہری اشرافیہ کی زندگی کافی بہتر ہوئی ہے لیکن انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق جب سے شمالی کوریا نے سفارتی سرگرمیاں شروع کی ہیں تب سے انسانی حقوق کے اعتبار سے کچھ خاص تبدیلی نظر نہیں آئی ہے۔
انسانی حقوق کا معاملہ یقیناً مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا مگر ممکن ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد کی رسائی یا جنگ کی وجہ سے علیحدہ ہونے والے خاندانوں کو ملنے کی اجازت دینے کے معاملے پر بات چیت کی جائے۔
سیٹلائیٹ سے لی گئی ان تصویروں کی وجہ سے بہت سارے لوگ گوگل سے یہ سوال کرتے ہیں۔
تصویر میں چین، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیاں سیاہ حصہ شمالی کوریا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شمالی کوریا میں وسیع اور میعاری بجلی کی فراہمی کا نظام نہیں ہے۔ بجلی کے سٹیشن اور ڈیم پرانے ہیں جہاں ایندھن اور سپیئر پارٹس کی شدید کمی ہے۔ سرکاری اور فوجی مقاصد کے لیے بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
شہروں سے باہر بہت سے لوگ مہنگے جنریٹرز کا استعمال کرتے ہیں، لیکن شمالی کوریا کے خبر رساں ادارے کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے ‘سولر پینلز’ تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ وہ سستے اور میعاری ہیں۔
جب شمالی کوریا کو لاحق خطرے سے متعلق خبریں آتی ہیں تو انٹرنیٹ پر کافی لوگ یہ سوال کرتے ہیں۔
نظریاتی طور ہر ایسا ہو سکتا ہے، لیکن کچھ ہی ماہرین کے مطابق ایسا کرنا اچھا ہوگا۔
پہلا تو اخلاقی سوال ہے، شمالی کوریا میں دو کروڑ پچاس لاکھ لوگ بستے ہیں ان میں اکثر تو اپنی ہی حکومت کے ظلم کا شکار ہیں اور وہ خود مسئلہ نہیں ہیں۔
کم جانگ ان اور ان کی سینئر قیادت کو ہٹانے سے اس کمزور اور غریب ملک میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا کے پڑوسی ہر صورت میں ایسی صورت حال سے بچنا چاہتے ہیں۔
شمالی کوریا کے پاس جوہری، کیمیائی،حیاتیاتی ہتھیار اور ایک بہت بڑی فوج ہے۔ جب تک ان تمام چیزوں کو بیک وقت غیر فعال نہ کیا گیا تو وہ کسی بھی حملے کا جواب دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

یوڈسن نے اعلان کیا ہےموٹر سائیکل مارکیٹ انڈیا سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہے

یوڈسن نے اعلان کیا ہےموٹر سائیکل مارکیٹ انڈیا سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہے

انڈیا: امریکہ کی مقبول موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی ہارلے ڈیوڈسن نے اعلان کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے