بھارتی صحافی اور عالمی میڈیا نے بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے دیا

بھارتی صحافی اور عالمی میڈیا نے بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے دیا

نئی دہلی: پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور کارروائی کے نیتجے میں تین سو افراد کی ہلاکت کے دعوے کو بھارتی صحافی نے مضحکہ خیز قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی صحافی رجدیپ سردسائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ہمارے چینلز بغیر کسی ثبوت و شواہد کے 300 افراد کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ جنگ جیسی حساس چیز کو کھیل اور اس سے سنسنی پھیلا کر بھارتی نیوز چینل صرف اپنی ریٹنگ بڑھانا چاہتے ہیں ۔ رجدیپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا نے بتایا کہ بھارتی دراندازی کی صورت میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب بین الاقوامی شہرت یافتہ غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز نے بھی بھارت کی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا پول کھول دیا۔ عینی شاہد نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ علی الصبح دھماکے کی آواز سنی جس سے صرف ایک شخص زخمی ہوا۔

بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی بزدلانہ کوشش کی تھی جسے ہر دم مستعد پاک فضائیہ کے بہادروں نے خاک چٹا دی تھی۔

پاکستان ائیرفورس کے فوری اقدامات کی وجہ سے بھارتی پائلٹ بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر واپس جانے میں ہی عافیت جانی یوں وہ دم دبا کر بھاگ گئے ۔

بھارت نے ماضی کی طرح اس بار بھی جھوٹ کا سہارا لے کر سرجیکل اسٹرئیک کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا جس کو عالمی میڈیا نے بھی مسترد کیا۔ نیویارک ٹائمز نے بھارتی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹھوس ثبوت کی فراہمی میں ناکام رہا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارجیئن نے بھارتی دعوے کو بڑھک قرار دیتے ہوئے جھوٹ قرار دیا۔ برطانوی اخبار نے رپورٹ مین لکھا کہ اس طرح کی سرجیکل اسٹرائیک مشکل اور ٹکنیکی معاملہ ہے جس میں شواہد فراہم کرنا ضروری ہوتے ہیں، بھارتی دعوے پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔

او آئی سی کی پاکستان میں بھارتی دراندازی کی شدید مذمت

یہ بھی پڑھیں

دنیا میں یہ, واحد درخت ہے جو کسی, فٹبال کلب, کا رکن, بھی ہے

دنیا میں یہ واحد درخت ہے جو کسی فٹبال کلب کا رکن بھی ہے

پیراگوئے:گراؤنڈ میں بڑھتے ہوئے درخت کو اپنی ٹیم کا آفیشل مداح قرار دیتے ہوئے اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے