پلوامہ

پلوامہ حملے کے بعد بھارت میں کشمیری طلبہ پر زمین تنگ، 19 طلبہ جامعات سے نکال دیے گئے

نئی دہلی: پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں آزادیٔ اظہار جرم بن گیا، تعلیم کے لیے بھارت میں مقیم کشمیری طلبہ پر زمین تنگ کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ مودی سرکار کے لیے جنگی جنون بھڑکانے کا بہانہ بن گیا، جمہوریت کے چیمپین ملک بھارت میں کشمیری طلبہ پر زمین تنگ کر دی گئی۔

گڑگاؤں میں کشمیری طالبہ کو یونی ورسٹی سے نکال دیا گیا، میڈیکل کی طالبہ نے سوشل میڈیا پر کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور خواتین سے زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

بنگلور میں بھی سچ بولنے کی پاداش میں تین کشمیری طلبہ کے خلاف پرچا کٹ گیا، طلبہ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں پلوامہ واقعے کو بھارتی مظالم کا ردِ عمل قرار دیا تھا۔

پلوامہ حملے کے بعد سے اب تک 19 سے زیادہ کشمیری طلبہ کو جامعات سے نکالا جا چکا ہے۔

کشمیریوں کے گھروں اور کاروبار پر بھی حملے جاری ہیں، دوسری طرف مقبوضہ جموں میں چھٹے روز بھی کرفیو نافذ ہے، بچے اسکول جانے سے محروم اور کاروباری مراکز پرتالے پڑے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی بھی قلت ہو گئی ہے، مقبوضہ جموں کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند ہے۔

ادھر کشمیری نوجوانوں نے مودی سرکار کو دو ٹوک پیغام دے دیا کہ ڈریں گےنہ جھکیں گے، غاصب فوج پر دلیرانہ حملے کے بعد کشمیری مجاہدین ہیرو بن گئے، پلوامہ کے دیہات میں آزادانہ نقل و حرکت شروع کر دی۔

مقبوضہ کشمیر جیوے جیوے پاکستان اور انقلاب کے نعروں سے گونج اٹھا ہے۔

حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں کشمیری طلبہ اور تاجروں پر حملے شرم ناک ہیں، طلبہ کو کھلی دھمکیاں اور تعلیمی اداروں سے بے دخلی قابل مذمت ہے۔

انھوں نے سب کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اپنی دیرینہ روایات کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔

بھارت میں قید پاکستانی کو جیل میں پتھر مار کر قتل کردیا گیا

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے