فرد جرم عائد ,کرنے کے, لیے 5 مارچ کی, تاریخ مقرر

فرد جرم عائد کرنے کے لیے 5 مارچ کی تاریخ مقرر

کراچی:جعلی پولیس مقابلے میں مبینہ طور پر 4 افراد کو قتل کردیا گیا تھا، جس کے الزام میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار، اس وقت کے ڈی ایس پی قمر احمد شیخ اور 13 ساتھیوں کو زیر حراست لیا گیا تھا جبکہ 7 لوگ مفرور قرار دیے گئے تھے

پولیس کی جانب سے اس مقابلے میں ہلاک ہونے والے افراد کو داعش اور لشکر جھنگوی سے جوڑا گیا تھا۔
گزشتہ روز یہ معاملہ انسداد دہشت گردی کی عدالت 3 کے جج کے سامنے سماعت کے لیے آیا جو سینٹرل جیل میں موجود جوڈیشل کمپلیکس میں اس کا ٹرائل کر رہے ہیں۔
کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی راؤ انوار سخت سیکیورٹی اور متعدد پولیس موبائل کے پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ دیگر ملزمان کو جیل سے عدالت لایا گیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولیس سروس سے ریٹائرمنٹ کے باوجود راؤ انوار پولیس پروٹوکول میں عدالت آئے۔
ابتدائی طور پر خصوصی پبلک پراسیکیوٹر نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 21 ایم کے تحت ایک درخواست دی تھی، جس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کے 17 ماتحت لوگوں کے مشترکہ ٹرائل کی درخواست کی تھی۔
اس درخواست میں پراسیکیوٹر نے بتایا تھا کہ درخواست گزار خان محمد نے شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں اس وقت کے ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کے ماتحت لوگوں کے خلاف اپنے بیٹے نقیب اللہ محسود اور دیگر کے قتل، غیر قانونی حراست، اغوا برائے تاوان سے متعلق پہلی ایف آئی آر (2018/40) درج کروائی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سابق تفتیشی افسر ایس ایس پی عابد قائمخانی نے عدالت کے سامنے ایک ’بی‘ کلاس رپورٹ جمع کروائی تھی، جس میں متاثرین کو بے گناہ قرار دیا تھا اور سابق ایس ایس پی ملیر اور ان کی ٹیم کی جانب سے ان افراد کے خلاف درج کیے گئے 5 مجرمانہ کیسز کو جعلی قرار دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بعد ازاں عدالت نے اس بی کلاس رپورٹ کو منظور کرلیا تھا۔
پراسیکیورٹ کا کہنا تھا کہ سابق آئی او نے متاثرین سے غیر قانونی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمدگی کے جھوٹے دعوے پر راؤ انوار اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف ایکسزپلوزب ایکٹ کی سیکشن 3 اور 4 اور سندھ آرمز ایکٹ 2013 کی سیکشن 21-آئی(اے) کے تحت دوسری ایف آئی آر (2018/142) درج کی تھی۔
پراسیکیوٹر کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ دونوں مقدمات کی آپس میں مماثلت ہے کیونکہ یہ ایک ہی واقعے سے متعلق ہیں، لہٰذا دونوں کیسز میں ایک مشترکہ ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔
اس دوران راؤ انوار کے وکیل ایڈووکیٹ عامر منسوب قریشی نے پراسیکیوٹر کی جانب سے مشترکہ ٹرائل کی درخواست پر اپنی رضا مندی ظاہر کی، تاہم دیگر ملزمان کے وکیل کی جانب سے اس درخواست کی مخالفت کی گئی اور عدالت سے استدعا کی کہ اپیل کی منظوری سے پہلے ان کے دلائل سنے جائیں۔
عدالت نے تمام وکلا کے دلائل کے لیے کیس کی سماعت کو 5 مارچ کے لیے مقرر کردیا، تاہم عدالت نے اسی تاریخ کو تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے بھی مقرر کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پراسیکیورٹر کی درخواست کی اجازت دی گئی تو فرد جرم عائد کی جائے گی ورنہ دنوں کیسز میں الگ الگ اس کا اطلاق ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے کیلیے 11 رکنی ٹاسک فورس تشکیل

لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے کیلیے 11 رکنی ٹاسک فورس تشکیل

کراچی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے سندھ بھر میں قائم لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے