محکمہ تعلیم ,کے افسران, درست رپورٹ نہ, دے, سکے

محکمہ تعلیم کے افسران درست رپورٹ نہ دے سکے

کراچی:عالمی بینک اور محکمہ تعلیم سندھ کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت عالمی بینک سندھ میں تعلیم کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے فنڈنگ کررہا تھا

عالمی بینک نے محکمہ تعلیم میں بہتری کے لئے دو سال کے دوران 55 ارب روپے جاری کئے تھے۔
معاہدے کے تحت ملنے والی رقم کو انتظامی و مالی معاملات اور اساتذہ کے بہتر معیار پر خرچ کیا جانا تھا۔ اس کے لیے 17 گریڈ کے نئے کیڈر کے افسران تعینات ہونے تھے لیکن محکمہ تعلیم پرانے کیڈر کے افسران کا تبادلہ کر کے ان ہی سے کام لیتا رہا۔ عالمی بینک نے کئی بار اخراجات پر تحفظات کا اظہار کیا لیکن محکمہ تعلیم کے افسران درست رپورٹ نہ دے سکے۔ جس کے بعد عالمی بینک نے محکمہ تعلیم سندھ کے کئی منصوبوں کو فنڈز روک دی ہے، اس کے علاوہ عالمی بینک نے رواں سال کے لیے ریفارم سپورٹ یونٹ کو بھی فنڈ دینے سے معذرت کرلی ہے، اساتذہ کی تربیتی پروگرام کی فنڈنگ جاری رکھی گئی ہے تاہم اس میں بھی کمی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

شرجیل انعام میمن کی درخواستِ ضمانت منظور

شرجیل انعام میمن کی درخواستِ ضمانت منظور

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات سندھ میں 5 ارب 76 کروڑروپے کرپشن سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے