چین نے ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ جانے پر پابندی عائد کردی

چین نے ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ جانے پر پابندی عائد کردی

 

چین نے دنیا کے سب سے بلند پہاڑ  ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر کوہ پیماؤں کے بغیر اجازت کے جانے پر پابندی عائد کر دی۔

چینی حکام نے یہ قدم بیس کیمپ پر بڑھتے ہوئی گندگی کے مسئلے کے بعد اٹھایا ہے جس کا مطلب ہے کہ کوہ پیماؤں کو بیس کیمپ کی سطح سے 5200 میٹر نیچے رُکنا ہو گا۔

ماؤنٹ ایورسٹ پر زیادہ تر لوگ نیپال کی طرف سے کوہ پیمائی کے لیے جاتے ہیں لیکن چین کی طرف سے جانے والوں کی تعداد میں بھی آہستہ آہستہ اضافہ ہوا ہے۔

چین کی طرف سے ماؤنٹ ایورسٹ کا بیس کیمپ تبت میں موجود ہے اور اس کی مقبولیت کی وجہ یہاں براستہ روڈ رسائی ہے جب کہ نیپال کی جانب سے بیس کیمپ تک پہنچنے کے لیے دو ہفتوں کی کوہ پیمائی درکار ہوتی ہے۔

دنیا کی سب سے اونچی چوٹی کو اس وقت سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے برسوں کے کچرے کے بڑھتے ہوئے ڈھیروں کا مسئلہ درپیش ہے۔

چین کی کوہ پیماؤں کی ایسوسی ایشن کے مطابق صرف 2015 میں 40000 سیاحوں نے اس بیس کیمپ کا رخ کیا۔

فوریسٹ اینڈ سوائل کنزورویشن کے مطابق نیپال بیس کیمپ میں 17-2016 میں سیاحوں کی 45000 کی ریکارڈ تعداد بیس کیمپ آئی۔

حالیہ سال جنوری میں چینی حکام نے اعلان کیا تھا کہ سیاحوں کو سالانہ صرف 300 اجازت جاری کیے جائیں گے۔

بیس کیمپ پر سیاحوں کے جانے پر مکمل پابندی کی خبریں چینی سوشل میڈیا پر  زیرِ گردش ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان دعووں کی تردید کی جا رہی ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کا انتہائی درجہ حررات اور اونچائی وہاں کچرے کی صفائی کی کوششوں کو مشکل بنا دیتا ہے۔

دسمبر 2018 میں تبت کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ موسم بہار میں کیے گئے تین آپریشنز میں آٹھ ٹن کچرا اٹھایا گیا جس میں انسانی فضلہ اور کوہ پیمائی کا چھوڑا ہوا سامان بھی شامل تھا۔

اس سال صفائی کے آپریشن میں ان کوہ پیماؤں کی لاشوں کو بھی نکالا جائے گا جو سطح مرتفع سے 8000 میٹر ہوا کی کمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

آئندہ خود وزیراعظم بننے کے بجائے نئی نسل کو موقع دوں گی، حسینہ واجد

یہ بھی پڑھیں

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

تہران: ایرانی رضاکار فورس بیسج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے