جعلی ڈگری پرپائلٹس کو لائسنس دینے والوں کیخلاف, کارروائی, کیوں نہیں, کی جارہی

جعلی ڈگری پرپائلٹس کو لائسنس دینے والوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی

اسلام آباد:چیف ایگزیکٹو آفیسرا رشد ملک نے بتایاپی آئی اے میں تھوک کے حساب سے بھرتیاں کی گئیں،جعلی ڈگریوں کی تحقیقات 2006 ء میں شروع ہوئی،15برس گزرنے کے باوجودتصدیق نہیں ہو سکی،ملاز مین نے اس میں بھی جعل سازی کی

مشاہداللہ نے کہاجعلی ڈگری پرپائلٹس کو لائسنس دینے والوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی، ہمیں کوشش کرنی چاہیے، کسی کے چولہے نہ بجھیں،جعلی ڈگری پر اور سزائیں بھی دی جا سکتی تھیں۔ کمیٹی نے ملازمین کی برطرفیوں کو خلاف ضابطہ قراردے کرانھیںآئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
وفاقی وزیرایوی ایشن میاں سومرو نے کہاجعلسازی کرنے والوں کیخلاف کارروائی ضروری ہے۔ ارشدملک نے بتایا پی آئی اے کاخسارہ 414 ارب تک پہنچ چکا، بدعنوانی ،غیرذمے دارانہ رویہ،زائدعملہ اوربد انتظامی تباہی کی وجوہات بنیں،یونین دفتر سے بوگس ٹکٹ اور بورڈنگ پاس جاری کیے جاتے،غیر منافع بخش روٹس بندکر کے منافع بخش کھول دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

اسلام آباد: این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے