امریکی ایوان نمائندگان کی مسلمان خاتون رکن معافی مانگنے پر مجبور

امریکی ایوان نمائندگان کی مسلمان خاتون رکن معافی مانگنے پر مجبور

امریکی کانگریس میں ڈیموکرٹیک پارٹی کی مسلمان خاتون رکن اپنی پارٹی اور صیہونی لابی کے دباؤ کی وجہ سے اپنے اس بیان پر معافی مانگنے پر مجبور ہوگئیں جسے یہودی دشمنی سے تعبیر کیا گیا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی نو منتخب مسلمان خاتون رکن ایلہان عمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں اپنے یہودی ساتھیوں اور اتحادیوں کا جنھوں نے مجھے تاریخ بتائی ہے شکریہ ادا کرتی ہوں۔

ایلہان عمر نے اس سے پہلے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا تھا کہ صیہونی لابی ایپک امریکی سیاستدانوں کو پیسے دیتی ہے تاکہ وہ اسرائیل کی حمایت کریں۔ ڈیموکرٹیک پارٹی کے لیڈروں اور ساتھ ہی ایوان نمائندگان کی اسپیکر ننسی پلوسی نے جن کا تعلق بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے پچھلے چند روز سے ایلہان عمر پر دباؤ ڈال رکھا تھا کہ وہ اپنے اس بیان پر جس میں ایک اہم راز سے پردہ ہٹا ہے معافی مانگیں۔

اس دوران ریپبلیکنز ارکان نے بھی اسرائیل پر ایلہان عمر کی تنقید کا بہانہ بناتے ہوئے ایوان نمائندگان میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں ان کی رکنیت پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

حکومت نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کردیا

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے