افغان مفاہمتی, عمل زلمے خلیل زاد, افغانستان، قطر اور پاکستان, میں مذاکرات کے لیے, ایک اور, امن مشن کا آغاز

افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد افغانستان، قطر اور پاکستان میں مذاکرات کے لیے ایک اور امن مشن کا آغاز

واشنگٹن: افغان صدر اشرف غنی کا بھی بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے طالبان کابل، قندھار اور ننگرہار میں دفتر کھولیں گے تو اس اقدام کا کھلے بازوؤں سے خیر مقدم کیا جائے گا

طالبان ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دوحہ میں رہنے کو ترجیح دیں گے اور اس مرکز کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے لیے کوششیں کریں گے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفتر 2013 سے قائم ہے۔
واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد اور ان کے ہمراہ وفد خطے میں مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے قبل بیلجیئم، جرمنی اور ترکی کے حکام سے بھی مشاورت کرے گا۔
امریکا کے نمائندہ خصوصی کا حالیہ مشن اتوار سے شروع ہونے کے بعد 28 فروری تک جاری رہے گا جس کے بعد وہ دوبارہ واشنگٹن واپس لوٹ جائیں گے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ دورہ اٖفغانستان کے مستقبل کے تعین کی راہیں تلاش کرنے کے لیے امریکا کے قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کی خاطر تمام افغان فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس سلسلے میں زلمے خلیل زاد اپنے ’دورے کے دوران ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں سے اس مقصد کے حصول کو تیز کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے اور افغان حکومت کے ساتھ مشاورت کریں گے‘۔
زلمے خلیل زاد نے امن مذاکرات میں تعاون کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ سینئر طالبان رہنما ملا برادر کو ان کی درخواست پر رہا کیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتی ہے اور اس ’اہم ملک‘ سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہاں ہے۔
دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے امن مذاکرات مکہ میں کرنے کی تجویز دی تھی لیکن طالبان اس کے بجائے ماسکو چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے