بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کیلئے نئی حکمت عملی پر غور

دنئی دلی: بھارتی حکومت کو گزشتہ 73 روز سے قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 100 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں کا تو خیال نہ آیا  لیکن گزشتہ روز 17 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لئے نئی حکمت عملی پر غور ضرور شروع کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا ، جس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر دفاع منوہر پاریکر، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ اور مودی کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اڑی میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر اجیت دوول نے اجلاس کے شرکا کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور لائن آف کنٹرول کے حالات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران بھارت کی اعلیٰ ترین سیاسی و عسکری قیادت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے اور آئندہ اس قسم کے حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات پر غور کیا۔

دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی ایک اجلاس کی سربراہی کی جس میں انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی، اس اجلاس میں بھارت کے اعلیٰ حکام نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آّزادی کو دبانے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان پر اقوام متحدہ کی عہدیدار کا ردعمل

ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان پر اقوام متحدہ کی عہدیدار کا ردعمل

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے ٹرمپ کے توہین آمیز بیانات کا نشانہ بننے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے