اضافی گیس بل, کا ذمے, دار حکومت کو قرار ,

اضافی گیس بل کا ذمے دار حکومت کو قرار

اسلام آباد: کابینہ سیکریٹریٹ میں بدھ کو منعقدہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے قائم مقام ڈائریکٹر عامر طفیل نے کہا کہ صارفین کو کو غلط بل نہیں بھیجے گئے بلکہ حکومت کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے سبب واجبات میں اضافہ کیا گیا

انہوں نے سینیٹرز کو بتایا کہ گیس کمپنیاں اور اوگرا اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ جن صارفین کو 20ہزار سے زائد کے بل بھیجے گئے ہیں، ہم نے انہیں سہولت کی فراہی کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ 4 قسطوں میں یہ رقم ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ صارفین اپنے چولہے 24گھنٹے چلاتے ہیں جس کے سبب وہ بل کی ادائیگی کے اوپری سلیب میں چلے گئے اور نتیجتاً اہیں زائد رقم کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ البتہ آنے والے دنوں میں گیس کے استعمال میں کمی کی بدولت بلوں میں کمی واقع ہو گی۔
اوگرا کی چیئرپرسن عظمیٰ عادل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اوگرا نے ضروری آمدن کا جائزہ لنے کے بعد تفصیلات وزارت پیٹرولیم کو بھیجیں جس نے اسے حکومت کو ارسال کردیا جس کے بعد حکومت نے قیمتوں اور سلیب میں اضافے کا حتمی فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایم ایم بی ٹی ٹی یو کی لاگت 630 روپے ہے لہٰذا اوگرا نے تین سلیب تجویز کیے اور یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ 50فیصد لاگت کو پہلی سلیب کے ذریعے ہی حاصل کیا جائے، دوسرے سلیب میں 100فیصد رقم لی جائے جبکہ تیسرے سلیب میں فی ایم ایم بی ٹی یو 780 روہے چارج کیے جائیں۔
عظمیٰ نے کہا کہ اس کے برعکس حکومت نے 7سلیب بنا دیے اور آخری دو سلیب میں قیمت میں 143فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ بلوں میں اضافے کی وجہ موسم سرما میں گیس کے استعمال کا طریقہ کار ہے۔ ہم نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کو ہدایت کی تھی کہ وہ لوگوں کو آگاہی فراہم کرے کہ گیس کو کس طرح سے بچایا جا سکتا ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم تنویر قریشی نے کہا کہ اس معاملے پر تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی رپورٹ 7دن میں مکمل کر لی جائے گی اور اس میں قیمتوں کی تفصیلات بیان کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

اسلام آباد: ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کی رپورٹ کے گذشتہ روز اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے