قائداعظم کا مقصد سیکولر پاکستان بنانا نہیں تھا

پاکستان جس طرح کی دہشت گردی کا شکار ہے اس میں بیرونی ہاتھ ملوث اور اندرونی مدد حاصل ہوتی ہے۔ منصفانہ ریاست کیلئے ہر شخص کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی نے نئے عدالتی سال کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم کا مقصد سیکولر پاکستان بنانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو برابر کے حقوق دینا تھا اور آئین پاکستان بھی مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے لیکن معاشرے میں ہر طرف عدم برداشت کا دور دورہ ہے اور لوگ رنگ و نسل و مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہیں جو سب سے زیادہ فکرانگیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح کی دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتا ہے جبکہ اندرونی حمایت اور مدد حاصل ہوتی ہے اور اس بات کا ذکر کراچی اوربلوچستان بے امنی کیس میں کیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں بھی دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بدلی صورتحال کے پیش نظر تمام ریاستی اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا اور یہ ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود و قیود میں رہ کر کام کریں کیونکہ اداروں میں ٹکراﺅ کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام ادارے کارکردگی کو بہتر بنائیں تو کرپشن اوربدامنی کا خاتمہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

قرض کے بوجھ تلے کوئی قوم خوشحال نہیں ہوسکتی

قرض کے بوجھ تلے کوئی قوم خوشحال نہیں ہوسکتی

اسلام آباد: پاکستانی بنیئے! ٹیکس ادا کیجئے، ٹیکس ادائیگی کیلئے ہم سب کو کردار ادا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے