کم, کریڈٹ ریٹنگ کا مطلب, ہے, کہ قرض حاصل ,کرنے والے ملک, کو سخت, شرائط, پر قرض, ملے گا

کم کریڈٹ ریٹنگ کا مطلب ہے کہ قرض حاصل کرنے والے ملک کو سخت شرائط پر قرض ملے گا

پاکستان اپنے مالیاتی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اس وقت آئی ایم ایف اور بعض ملکوں کے ساتھ قرضوں کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی درجے میں کمی کے ان مذاکرات پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی درجہ بندی کا مقصد کسی معیشت کو لاحق خطرات کا جائزہ اور اس کی بنیاد پر اس کی ریٹنگ متعین کرنا ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور انٹرنیشنل کیپیٹل مارکیٹ اس ریٹنگ کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ملک کو قرضہ جاری کرنے کے لیے مارکس کا تعین کرتی ہیں۔
کریڈٹ ریٹنگ ایک ملک کی معیشت اور اس کی حالت کے بارے میں ایک معیار ہے جو پرکھتا ہے کہ اس ملک کی قرض لینے کی کیا قابلیت ہے۔ کم کریڈٹ ریٹنگ کا مطلب ہے کہ قرض حاصل کرنے والے ملک کو سخت شرائط پر قرض ملے گا جبکہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ کا مطلب ہے کہ شرائط نسبتاً نرم ہوں گی۔
اس ریٹنگ کے تعین میں قرض کی واپسی سے جڑے خدشات کو بھی مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں کسی ملک کی درجہ بندی کا تعین اس کی حیثیت کو لاحق خطرات کی بنیاد پر کرتی ہیں۔
دنیا میں تین بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ہیں۔ مودیز، فچ اور سٹینڈرڈ اینڈ پوور جو دنیا کے تمام ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ کے بارے میں جائزے جاری کرتی ہیں۔
یہ مختلف ممالک کی جانب سے جاری کردہ بانڈز اور دوسرے معاشی اور اقتصادی اشاریوں کے بارے میں بھی جائزے اور رپورٹس جاری کرتی ہیں۔
پاکستان کی درجہ بندی میں تنزلی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟
ایس اینڈ جی کی جانب سے تنزلی کے فیصلہ کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف، عالمی بینک، اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت انٹرنیشنل مارکیٹ میں آئندہ بھی جاری کیے جانے والے مجوزہ بانڈز پر زیادہ سود ادا کرنا پڑے گا کیونکہ اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور موجودہ حکومت اصلاحی اقدامات کرنے سے گریزاں ہے۔
اس کے علاوہ بی منفی ہونے کے نتیجے میں ملک کو مہنگے دام پر قرض ملے گا اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ فنڈ کی انتظامیہ اور بورڈ کے اراکین اس منفی گریڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے سامنے مزید سخت شرائط پیش کریں گے۔
سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تنزلی کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت کی ترقی میں کمی اور ساتھ ساتھ بیرونی اور بجٹ کا خسارہ بڑھنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ یہ تنزلی معاشی عدم استحکام کی نشانی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سٹینڈرڈ اینڈ پوورز نے آخری مرتبہ 2015 اور 2016 میں پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی تھی لیکن اب یہ منفی کردی گئی ہے۔
ڈاکٹر وقار کے مطابق جب تک حکومت معیشت کے حوالے سے اصلاحی اقدامات نہیں کرے گی اس وقت تک معیشت کی بہتری کے اشاریے حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو مہنگے قرضے حاصل کرنے پڑیں گے یا صرف دوست ممالک پر ہی انحصار کرنا پڑے گا لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں اور ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔
اے اے اے: یہ سب سے مضبوط ریٹنگ ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اپنے مالیاتی وعدے پورا کرنے کی سب سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ یہ سب سے بہتر ریٹنگ ہے جو کوئی ملک حاصل کر سکتا ہے۔
اے اے: اس ریٹنگ کا ملک اپنے مالیاتی وعدے پورا کرنے کی بہت بہتر پوزیشن میں ہے۔
اے: اس ریٹنگ کا حامل ملک اپنے مالیاتی وعدے پورے کرنے کی بہتر قابلیت رکھتا ہے مگر کسی طرح منفی معاشی حالات کے سلسلے میں حساس ہے۔
بی بی بی: اس ریٹنگ کے حامل ملک میں اپنے مالیاتی وعدوں کو پورا کرنے کی کافی صلاحیت ہے مگر یہ سب منفی معاشی حالات کے ساتھ ہے۔
بی مائنس: یہ غیرسرمایہ گریڈ سے اوپر کی سب سے کم تر ریٹنگ ہے۔
بی بی: مستقبل قریب میں خطرات کم ہیں مگر اسے ایک مسلسل غیر یقینی کاروباری، مالیاتی اور معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔
بی: کاروباری اور معاشی وعدوں کو پورا کرنے کے معاملے میں کافی خطرات کا سامنا ہے۔
سی سی سی: موجود وقت میں یہ ملک خطرات کا شکار ہے اور اپنے مالیاتی وعدے پورے کرنے کے لیے محتاج ہے۔
سی سی: موجودہ حالات بہت ہی خطرناک ہیں
سی: دیوالیہ پن کے قریب یا دیوالیہ قرار دیے جانے تک
ڈی: مالیاتی وعدے پورے کرنے میں ناکام یا قسط ادا کرنے میں ناکام
اے اے اے، اے اے، اے اور بی بی بی کی درجہ بندیاں مارکیٹ میں سرمایہ کاری گریڈ سمجھی جاتی ہیں۔ ریٹنگ اے اے سے سی سی سی تک منفی یا مثبت کے اضافے کے ساتھ خصوصی حالات کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہیں

یہ بھی پڑھیں

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ روپے سے تجاوز

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ روپے سے تجاوز

کراچی: کورونا وائرس کے باعث ملک میں جیولری کی دکانوں سمیت مقامی مارکیٹس شٹ ڈاؤن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے