وہ, سیاستدان جو, پہلے افغانستان, کی جمہوری تبدیلی کی, قیادت کرتے تھے وہ طالبان سے, ملاقات کر, رہے ,ہیں

وہ سیاستدان جو پہلے افغانستان کی جمہوری تبدیلی کی قیادت کرتے تھے وہ طالبان سے ملاقات کر رہے ہیں

کابل: سینیر افغان حکام نے خبردار کیا ہے کہ طالبان عسکریت پسند اور سابق صدر حامد کرزئی سمیت اپوزیشن سیاست دانوں کے درمیان مذاکرات افغانستان کے بہترین مفاد اور جمہوری اصولوں سے دھوکا دہی ہے

طالبان وفد اور افغان اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا آغاز منگل (آج) سے ماسکو میں ہورہا ہے، یہ مذاکرات قطر میں طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والی بات چیت کے 10 روز بعد ہورہےہیں۔
قطر میں ہونے والے مذاکرات کا اختتام افغانستان سے ہزاروں غیر ملکی فوجیوں کا انخلا اور 17 سال سے زائد جاری جنگ کے خاتمے کے لیے راستے نکالنے پر ہوا تھا۔
ماسکو نے طالبان کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے افغان حکومتی حکام کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ طالبان پہلے ہی مغربی حمایت یافتہ صدر اشرف غنی کے نمائندوں سے مذاکرات کا انکار کرچکے ہیں جبکہ وہ انہیں امریکا کا کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔
ادھر اشرف غنی کے چیف ایڈوائزر فاضل فضلی نے ‘افسوس’ کا اظہار کیا کہ وہ سیاستدان جو پہلے افغانستان کی جمہوری تبدیلی کی قیادت کرتے تھے وہ طالبان سے ملاقات کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ یہ ون ان اصولوں کو بائی پاس کرنے کے لیے تیار ہیں اور اختلافات اور طاقت سے دور ہونے کی وجہ سے ان اصولوں کی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
حکومتی چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے طالبان اپنے مقاصد کو حاصل کرلیں گی، اس لیے مذاکرات کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں روسی حکام کی جانب سے پس منظر میں رہنے کا امکان ہے وہیں ماسکو مذاکرات افغانستان میں بڑھتے ہوئے روسی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یوڈسن نے اعلان کیا ہےموٹر سائیکل مارکیٹ انڈیا سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہے

یوڈسن نے اعلان کیا ہےموٹر سائیکل مارکیٹ انڈیا سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہے

انڈیا: امریکہ کی مقبول موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی ہارلے ڈیوڈسن نے اعلان کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے