ہندو لڑکی جو مسلمان بچوں کو قرآن پڑھاتی ہے

اتر پردیش کے علاقے آگرہ میں 18 سالہ پوجا کشوہ جو بارہویں کلاس کی طالبہ ہے، وہ مسلمان بچوں کو قران کی مفت تعلیم دے رہی ہیں۔

کشوہ کے ایک طالب علم کی ماں ریشما بیگم نے کشوہ کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت فخر کی بات ہے، وہ میری بچی کی استاد ہے۔

کشوہ نے بتایا کہ ہمارے محلے میں ایک خاتون سنگیتا بیگم رہتی تھی، جن کے والد مسلمان اور ماں ہندو تھی، وہ محلے میں بچوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھی اور میں ان کے ہاں پڑھنے جاتی تھی، تبھی مجھے قران پڑھنے اور پڑھانے میں دلچسپی ہونے لگی۔

پوجا کا مزید کہنا تھا کہ سنگیتا بیگم کسی مجبوری کے باعث وہ اس فرض کو جاری نہ رکھ سکی اور یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی ، انہوں نے نصیحت کی تھی کہ ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں، جو دوسروں تک منتقل نہ کیا جاسکے۔

کشوہ نے کہا کہ جب سے میں غریب مسلمان بچوں کو مفت قران پڑھا رہی ہوں جبکہ گھر چھوٹا ہے اور بچوں کی بڑھتی تعداد کے باعث مندر کے باہر کچھ جگہ دے دی گئی۔ اب اس کلاس میں 35 بچوں کو قرانی تعلیم دے رہی ہوں۔

کشوہ کی بڑی بہن نندنی ایک گریجویٹ ہے اور بچوں کو ہندی کتاب بگوت گیتا پڑھاتی ہے۔

کشوہ اور نندنی کی ماں نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی بیٹیوں پر فخر ہے، پوجا کے پاس قرآن پڑھنے والے بچے زیادہ تر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

شہر کے مشہور مسلمان رہنما حاجی جمیل الدین نے پوجا کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کوئی مذہب اس کے پیشہ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے، اسلام کسی کو عربی سیکھنے یا قرآن پڑھنے پر اعتراض نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں

پرانے کپڑے

میم آپ اپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں تحریر: زینب بخاری میری کلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے