مغرب, میں, گوشت کی, کھپت کافی, زیادہ ہے

مغرب میں گوشت کی کھپت کافی زیادہ ہے

برطانوی عوام کا ایک تہائی حصہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انھوں نے گوشت کھانا بند یا بہت کم کر دیا ہے جبکہ امریکہ کے دو تہائی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک قسم کے گوشت کا استعمال کم کر دیا ہے

اس رجحان کی وجہ بنا گوشت کے سوموار اور ویگنوئری جیسی کاوشیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد دستاویزی فلموں اور ویگنزم کا دفاع کرنے والوں نے بھی کم گوشت کھانے کے فوائد کو اجاگر کیا ہے۔
مگر کیا ان جذبات سے حقیقت میں کوئی فرق پڑا ہے؟
ہم یہ جانتے ہیں کہ گذشتہ 50 سالوں میں دنیا میں گوشت کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
1960 کی دہائی کی ابتدا کا موازنہ اگر 2017 سے کیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ گوشت کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ سات کروڑ ٹن سے 2017 میں 33 کروڑ ٹن ہو گئی ہے۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ آبادی کا تیزی سے بڑھنا ہے۔
1960 کی دہائی میں عالمی آبادی تین ارب تھی اور آج سات ارب 60 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ تب سے لے کر اب تک آبادی میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔
آمدن میں اضافہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔ دنیا بھر میں لوگ امیر ہو گئے ہیں اور عالمی اوسط آمدن میں گذشتہ 50 برس میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
اگر ہم دنیا بھر میں کھپت کا موازنہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ لوگ جتنا زیادہ امیر ہوں اتنا ہی زیادہ گوشت استعمال کرتے ہیں۔
نہ صرف دنیا میں لوگ زیادہ ہیں مگر گوشت کھانے کی سکتِ رکھنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
اگر ہم گوشت کی کھپت کے رجحان کا پوری دنیا میں مطالعہ کریں تو اس کا براہ راست تعلق دولت سے جُڑتا ہے۔
سنہ 2013 کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ گوشت کھانے والے ممالک میں امریکہ اور آسٹریلیا سرفہرست رہے۔ ارجنٹائین اور نیوزی لینڈ میں ہر شخص نے سالانہ 100 کلو گوشت کھایا جو 50 مرغیوں یا آدھی گائے کے گوشت کے برابر ہے۔
دراصل مغرب میں گوشت کی کھپت کافی زیادہ ہے، مغربی یورپ میں فی شخض سالانہ 80 سے 90 کلو کے درمیان گوشت کھاتا ہے۔
اس کے برعکس دنیا کے بیشترغریب ترین ممالک میں نسبتاً بہت کم گوشت کھایا جاتا ہے۔
ایتھوپیا کا باشندہ 7 کلو ،روانڈا کا باشندہ 8 کلو اور نایئجیریا کا باشندہ اوسطاً 9 کلو گوشت کھاتا ہے جو ایک یورپی باشندے سے دس گناہ کم ہے۔
پسماندہ ممالک میں اب بھی گوشت کو ایک آسائش سمجھا جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار فی شخص گوشت کی دستیابی کے بارے میں بتاتے ہیں مگر گھر یا دکان میں ضائع ہونے والے کھانے کو مدِ نظر نہیں رکھتے۔ درحقیقت لوگ ان اعداد وشمار سے کچھ کم ہی گوشت کھاتے ہیں لیکن پھر بھی یہ اعداد و شمار کافی حد تک درست ہیں۔
متوسط آمدن والے ممالک گوشت کی مانگ میں اضافہ کررہے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ امیر ترین ممالک سب سے زیادہ گوشت کھاتے ہیں جبکہ غریب ممالک میں گوشت کم کھایا جاتا ہے۔
یہ حقائق تو گذشتہ 50 سال سے موجود ہیں لیکن مجموی طور پر اب ہم گوشت کا زیادہ استعمال کیوں کر رہے ہیں؟
اس رجحان کی بنیادی وجہ متوسط آمدن کے ممالک میں ایک خاص طبقےکا بڑھنا ہے۔
گذشتہ کچھ دہائیوں میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک چین اور برازیل میں گوشت کی کھپت میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس کے برعکس 1960 کی دہائی میں چین میں فی شخص سالانہ پانچ کلو سے کم گوشت کھاتا تھا۔ 1980 کی دہائی کے اختتام پر یہ مقدار 20 کلو تک پہنچ گئی تھی اور گذشتہ کچھ دہائیوں میں تو تین گنا اضافے کے ساتھ 60 کلو سے اوپر جا چکی ہے۔
برازیل میں بھی اس سے ملتا جلتا رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں گوشت کھانے کی کھپت میں 1990 کی دہائی سے اب تک دگنا اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے تقریباً تمام مغربی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
انڈیا میں صورتحال نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اگرچہ اوسط آمدن میں سنہ 1990 سے اب تک تین گنا اضافہ دیکھا گیا ہے مگر گوشت کی کھپت میں ایسا نھیں ہوا۔
ایک غلط تاثر یہ بھی ہے انڈیا کی اکثریتی آبادی سبزی خور ہے جبکہ ایک سروے کے مطابق انڈیا کے دو تہائی لوگ کسی نہ کسی قسم کا گوشت ضرور کھاتے ہیں۔
اس کے باوجود انڈیا میں گوشت بہت کم کھایا جاتا ہے۔ انڈیا میں فی شخص 4 کلو سے کم گوشت کھاتا ہے، جو کہ دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔ جس کی بنیادی وجہ مذہبی اور سماجی عوامل کے باعث گوشت کی مختلف اقسام سے پرھیز ہے۔
شمالی امریکہ اور یورپ میں بیشتر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ انھوں نے گوشت کھانا کم کردیا ہے۔ لیکن اعدادوشمار کے مطابق حقیقت میں ایسا کچھ نھیں۔
امریکی محکمہ زراعت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گوشت کی کھپت میں گذشتہ کچھ سالوں میں در حقیقت اضافہ ہوا ہے۔
ہم یہ سوچتے ہیں کہ گوشت کم کھایا جا رہا ہے لیکن گذشتہ چند دہائیوں کے مقابلے 2018 میں امریکہ میں گوشت کھائے جانے کی مقدارکافی زیادہ تھی۔
یورپی یونین میں بھی تقریبا کچھ ایسا ہی حال ہے۔
اگرچہ کہ مغرب میں گوشت کی کھپت میں نسبتا تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے، لیکن کھائے جانے والے گوشت کی مختلف اقسام بدل رہی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ گائے اور سؤر کا گوشت کھانے کی بجائے پولٹری کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکہ میں 1970 کی دہائی کے مقابلے میں اب گوشت کھانے کا نصف حصہ پولٹری کو جاتا ہے جو اس سے قبل صرف ایک چوتھائی تھا۔
بعض اوقات گوشت کھانا فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
مناسب مقدار میں گوشت کھانے اور ڈیری مصنوعات کے استعمال سے صحت میں بہتری آتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں آمدن اور مختلف قسم کی خوراک کی کمی ہے ۔
لیکن بہت سے ممالک میں گوشت اس کثرت سے کھایا جاتا ہے غذائی فوائد حاصل نھیں کیے جا سکتے ۔
حقیقت میں یہ صحت کے لیے خطرہ ہے۔ بہت سی تحقیقات کے مطابق پروسیسڈ گوشت سے دل کے مرض، سٹروک اور سرطان کی مختلف اقسام کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
بیف اور سؤر کے گوشت کی بجائے مرغی کے گوشت کا استعمال بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ .
مستقبل میں گوشت کی کھپت میں توازن اور پائیداری کے لیے بنیادی تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔
اس کے لیے نہ صرف ہمیں گوشت کھانے کی مقدار میں کمی لانا ہوگی بلکہ گوشت کی مخلتف اقسام پر بھی غور کرنا ہوگا۔ بنیادی طور پر گوشت کو پھر سے ایک آسائش بنانا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے