میرے بارے میں وزیر اعلیٰ کو مس گائیڈ کیا گیا

خواجہ اظہار کے گھر میں داخل ہی نہیں ہوئے اور نہ خواتین سے بدتمیزی کی۔

پروگرام ’’سوال یہ ہے ’’میں گفتگو کرتے ہوئے راؤ انوار کا کہنا تھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو مس گائیڈ کیا گیا،ہم خواجہ اظہار الحسن کے گھر میں داخل نہیں ہوئے اور پولیس نے کسی خاتون سے بدتمیزی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خواجہ اظہار کی گرفتاری کے کچھ دیر بعد ہی معطل کردیا گیا تھا جس کا علم مجھے میڈیا کے ذریعے ہوا،گرفتاری کے بعد ہی اسپیکر کو مطلع کیا جاتا ہے پہلے نہیں، میری معطلی غیر قانونی ہے جس کے خلاف مختلف وکیلوں نےمدد کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے،دوستوں سے مشورے کے بعد قدم اٹھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن لوگوں کو حکومت میں نہیں ہونا چاہیے،پولیس والے ان کے خلاف کارروائی سے ہچکچاتےہیں۔

راؤ انوار نے مزید کہا کہ خواجہ اظہار الحسن کی ضمانت نہیں ہوسکتی تھی،ان کے کیس میں تفتیش نہیں ہوئی،سیون اے ٹی اے میں ریمانڈ کے بعد تفتیش کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا

نیب نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو(نیب) نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے