کشتیاں ڈوبنے سے 33 تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے

ترکی کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساحل پر یونان جانے والی کشتیوں کے الٹنے سے کم از کم 33 تارکین وطن ڈوب گئے ہیں۔

انادولو اور دوگان ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ 22 افراد یونان کے جزیرے لیزبوس کے قریب ہلاک ہوئے۔

دوگان کے مطابق ایک مختلف واقعے میں ترکی کے جنوب میں دکلی کے نزدیک کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق رواں سال 5 فروری تک کم از کم 374 افراد یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

2015 میں یورپ میں داخل ہونے کے لیے پناہ گزینوں میں سب سے زیادہ مقبول روٹ ترکی سے یونان کا ہے۔

آئی او ایم کے مطابق طوفانی حالات کے باوجود اس سال میں اب تک 69 ہزار افراد یونان کے ساحل پر اتر چکے ہیں۔ گذشتہ سال میں یہ تعداد آٹھ لاکھ 54 ہزار تھی۔

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ رواں سال یونان آنے والوں میں نصف تعداد شام سے آنے والے افراد کی ہے۔

یورپی یونین کے سربراہان کی جانب سے تارکین وطن کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جانے کی درخواست کے باوجود ترکی نے کیلیس سرحد کے قریب جمع 35 ہزار تارکین وطن کے لیے سرحد بند کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت کرتارپور راہداری منصوبے کو خوش آئند قرار

بھارت کرتارپور راہداری منصوبے کو خوش آئند قرار

واشنگٹن: مورگن آرٹیگس نے پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے