سائنسدانوں, نے ,وائی فائی سگنلز کو بجلی کی شکل, میں بدلنے کا دعویٰ, کیا ہے

سائنسدانوں نے وائی فائی سگنلز کو بجلی کی شکل میں بدلنے کا دعویٰ کیا ہے

امریکہ: میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایسی مشین تیار کی ہے جو وائی فائی سگنلز کو بجلی میں بدل سکتی ہے

 

محققین کے مطابق وائی فائی سگنل کو بجلی میں بدلنے سے ٹو ڈی ڈیوائس کو مکمل طور پر وائی فائی لہروں سے چلانا ممکن ہوگا اور بیٹری کی ضرورت ختم ہوجائے گی

ان کا کہنا تھا کہ وائی فائی تیزی سے پھیلنے والا پاور سورس بن چکا ہے اور نئی مشین سے اس کے سگنل کو کارآمد برقی رو میں بدلنا ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹینا الٹرنیٹ کرنٹ (اے سی) لہروں کو ڈی سی کرنٹ والٹیج میں بدل دیتا ہے جو برقی مصنوعات میں استعمال ہوسکتا ہے۔
ایم آئی ٹی کی ٹیم کا دعویٰ تھا کہ اس ٹیکنالوجی سے برقی مصنوعات، اسمارٹ واچز وغیرہ اور طبی ڈیوائسز کو بجلی فراہم کرنا ممکن ہے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ ہم نے مستقبل میں برقی نظام کو بجلی کی فراہمی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کرلیا ہے اور وائی فائی کو توانائی کے طور پر انتہائی آسانی سے استعمال کرنا ممکن ہوسکے گا۔
اس کے لیے انہوں نے ایک نئی طرز کا انٹینا تیار کیا ہے جو ریڈیو فریکوئنسی انٹینا کے طور پر استعمال کرکے وائی فائی کو لے کر چلنے والی برقی مقناطیسی لہروں کو پکڑتا ہے اور ڈائریکٹ کرنٹ میں بدل دیتا ہے۔
اس تبدیلی کے لیے ایک پرزے rectifier کی ضرورت پڑتی ہے جو غیرلچکدار ہوتا ہے، تاہم ایم آئی ٹی محققین نے اس کے لیے انتہائی پتلا اور لچکدار میٹریل مولیبڈینم ڈسیولفائیڈ استعمال کیا جو دنیا کے چند پتلے ترین سیمی کنڈکٹرز میں سے ایک ہے۔
محققین کے مطابق اس طرح کے ڈیزائن سے ایک مکمل لچکدار ڈیوائس بنانے میں مدد ملتی ہے جو اتنی تیز ہوتی ہے جو روزمرہ کی برقی مصنوعات میں استعمال ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی بینڈز بشمول وائی فائی، بلیوٹوتھ، سیلولر ایل ٹی ای اور دیگر کو کور کرسکتی ہے۔
اب تک اس حوالے سے تجربات کے دوران سائنسدان وائی فائی سگنلز سے 40 مائیکرو واٹ بجلی بنانے میں کامیاب رہے جو کسی موبائل ڈسپلے کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

چائے, آنکھوں میں ,موتیا کے خطرے, کو 74 فیصد, تک کم, کردیتی ہے

چائے آنکھوں میں موتیا کے خطرے کو 74 فیصد تک کم کردیتی ہے

کیلیفورنیا: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے شعبہ صحت میں کی گئی تحقیق میں 10 ہزار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے