پنجاب میں آپریشن ہوا تو شریف برادران کی ملوں سے بھارتی جاسوس نکلیں گے، طاہرالقادری

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا ہےکہ پنجاب حکومت صوبے میں رینجرز اور فوج کے آپریشن کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ پنجاب میں آپریشن ہوا تو شریف برادران کی شوگر ملوں سے بھارتی جاسوس نکلیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ شریف فیملی کی شوگر ملوں میں 300 بھارتی کام کررہے ہیں، شریف حکومت نے 300 بھارتیوں کو ملٹی پل ویزے دیئے جنہیں انجینئرز، ٹیکنیشنز اور ویلڈرز کے نام پر انہیں پاکستان لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شریف فیملی کی ملوں میں آنے والے بھاریتوں کی چھان بین کیوں نہیں کی جاتی، واہگہ بارڈر پر ان بھارتیوں کو خصوصی پروٹوکول ملتا ہے اور ان کی تلاشی نہیں ہوتی، ان کی پوری ٹریول ہسٹری ہے جو ایف آئی اے کے پاس ہے مگر ایف آئی اے کا سربراہ بھی ان کا ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ شریف برادران نے آج تک میری بات کی تردید نہیں کی، وفاقی حکومت کی خاموشی میری بات کو تسلیم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی پیشانی پر نہیں لکھا ہوتا وہ جاسوس ہے، اگر بھارتی شہری جاسوس نہیں تو ان کی چیکنگ کیوں نہیں کی جاتی، ادھر دہشت گردی ہورہی ہے، کراچی اور سندھ میں رینجرز آپریشن کررہی ہے، کورکمانڈر لاہور نے پنجاب میں رینجرز آپریشن کی ڈیمانڈ کی جسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، کراچی اور سندھ میں بار بار آپریشن کا ٹائم ملتا ہے اور اس کے لیے اسلام آباد بھی بولتا ہے لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ صوبے میں رینجرز آپریشن کی اجازت نہیں دے رہے۔

عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن کیوں نہیں ہورہا، صوبے میں آپریشن کریں یہاں سے ’’را‘‘ کے ایجنٹ سمیت سب نکلیں گے، اگر صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف تابڑ توڑ کارروائیاں ہوں اور انہیں مروڑا جائے تو سب کے بیان (ن) لیگ کے وزیروں سے ہوتے ہوئے سلطنت شریفیہ کے دروازے تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس ان کی غلام ہے وہ آپریشن نہیں کرسکتی، رینجرز اور فوج آپریشن کرے سارے دہشتگرد کھرا نکال دیں گے جو ان کےگھروں تک جاتا ہے، دہشتگرد اور جاسوس ان کی ملوں سے نکلتے ہیں اس لیے پنجاب میں آپریشن کی اجازت دینے کو تیار نہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان چاہیے یا پنجاب حکومت کا حکمران خاندان چاہیے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ دہشت گرد پنجاب کو عزیز کیوں ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت انہیں کیوں تحفظ دے رہی ہے، اصل خطرہ یہ ہے کہ جس دن فوج نے دہشت گرد اٹھالیے وہ ان کے گھر تک جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھارتیوں کو تحفظ دینا اس انویسمنٹ کا صلہ ہے جو 4 سال تک بھارت کی طرف سے  نوازشریف کو اقتدار میں لانے کے لیے ہوتی رہی۔

دوسری جانب ترجمان شریف فیملی نے طاہرالقادری کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف فیملی کی شوگر مل میں کوئی بھارتی کام نہیں کرتا، مل 1992 میں قائم ہوئی جس کے 1100 سے زائد ملازم ہیں۔ ترجمان شریف فیملی نے طاہرالقادری پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا بھی اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں

مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا

مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا

لاہور: نیب پراسیکیوٹر کے مطابق 1992 میں چوہدری شوگر مل قائم کی گئی، 2008-10 میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے