,مہمند ڈیم ,ٹھیکا ,عوامی وسائل, پر, ڈاکہ زنی ,کے, مترادف, ہے، شہباز شریف

مہمند ڈیم ٹھیکا عوامی وسائل پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے، شہباز شریف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے معاملے پر ہاؤس کمیٹی بننی چاہیے کیونکہ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے اور محدود عوامی وسائل پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے۔

قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں شہباز شریف نے ممند ڈیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘مہمند ڈیم بننے جارہا ہے جو ملک کے لیے خوش آئند بات ہے، مہمند ڈیم کا عمل پچھلے کئی برس سے جاری ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہماری حکومت کے زمانے میں اس کے ٹھیکے کا عمل شروع کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ٹھیکے کو پی ٹی آئی کی حکومت میں دیا گیا’۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ‘یہ بات روز روشن کی طرح عیاں رہنی چاہیے اور اس میں کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، یہ ٹھیک بات ہے کہ یہ ٹھیکا پچھلی حکومت نے شروع کیا لیکن مہمند ڈیم کا ٹھیکا دینے کی ذمہ داری پی ٹی آئی حکومت کی ہے مسلم لیگ (ن) کی نہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ بات تو یہ ہے اس عمل میں کتنی شفافیت ہوئی اور کس حد سوالیہ نشان اٹھے ہیں، سنگل بولی کی اجازت پیپرا قوانین دیتے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ کی نشست پر بی اے پی کے امیدوار منظور کاکڑ کامیاب

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ‘یہ ڈیم 800 میگاواٹ کا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے 5 یا 6 سال چاہیے ہوں گے، کیا ایسے کون سی قیامت آگئی تھی کہ ایک بولی رہ گئی تھی اور دوسری بولی کو تیکنیکی اعتبار سے ناک آوٹ کردیا گیا تھا، ایک بولی تھی ڈیسکون اور چین کی گزوبا کمپنی تھی دوسری بولی بھی چینی کمپنی کی تھی جو تیکنیکی اعتبار سے آؤٹ ہوئی تو ایک بولی رہ گئی جس کی بنیاد پر یہ ٹھیکا دیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا اس معاملے پر پیپرا رولز کو مدنظر رکھا گیا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ایک بولی ہوتو بھی اس کو ٹھیکا دیا جاسکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے دور میں نظر ثانی کیے گئے ٹھیکے کا حوالہ دیتے ہوئے مہمند ڈیم پر شہباز شریف نے کہا کہ ‘یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، شفافیت اور میرٹ کا ڈھونڈورا پیٹی رہی ہے اور اتنے بڑے منصوبے کی دوبارہ بولی دیتے کون جانتا کہ 309 ارب روپے کے بجائے ڈھائی سو ارب روپے، سوا دو سو ارب یا پونے 300 ارب کا مل جاتا اور شفافیت کا تقاضا تھا جس کو پورا کرنا تھا’۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ ‘یہ مفادات کا ٹکراؤ بھی ہے، پیپرا رولز کی سفارشات کی بھی خلاف ورزی ہے، پاکستان کے عوام کے وسائل ہیں ان پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے اس لیے میری اس ہاؤس سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو فی الفور اسمبلی کے فلور پر دیکھنا چاہیے اور اس معاملے کو ایک ہاؤس کمیٹی کے سپرد کرنا چاہیے اور اس وقت تک آگے نہیں بڑھنا چاہیے’۔

یہ بھی پڑھیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

راولپنڈی: مہناز سعید کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں انہیں غیر قانونی سہولیات فراہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے