انسانی حقوق کی خلاف وزریوں, کے مرتکب, شخص کی, اہم عہدے پر, واپسی ,ناقابلِ قبول

انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے مرتکب شخص کی اہم عہدے پر واپسی ناقابلِ قبول

کابل: بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کے شدید مخالف اسداللہ خالد کی تعیناتی نے انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی، جن کے مطابق اسداللہ خالد غزنی اور جنوبی قندھار کے گورنر کے طور پر اقدامِ قتل، تشدد اور منشیات کے کاروبارمیں ملوث تھے

اس سلسلے میں ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ ’اس بات کے معتبر شواہد موجود ہیں کہ اسداللہ خالد اپنے حکومتی عرصے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں‘۔
ایچ آر ڈبلیو ایشیا کے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز نے امریکا اور کینیڈا سمیت دیگر عطیات دہندگان ممالک سے اسداللہ خالد پر پابندی لگانے، ان کے اثاثے منجمد کرنے اور ملک میں داخلہ نہ دیے جانے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین اور دیگر عطیات دہندگان کو بھی اس قسم کی پابندیوں کا اطلاق کرنا چاہیے تا کہ ایک واضح پیغام مل سکے کہ انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے مرتکب شخص کی اہم عہدے پر واپسی ناقابلِ قبول ہے۔
دوسری جانب اسداللہ خالد ، جو نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سیکیورٹی کا شعبہ سنبھالنے کے بعد 2012 میں طالبان کے خود کش حملے میں بال بال محفوظ رہے تھے، نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے