اب بجلی خلا میں پیداکی جائے گی

جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جاکسا) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ”ہم ٹیکنالوجی کے اس راستے پر ہیں، جس پر چلتے ہوئے شمسی توانائی توخلامیں پیدا کی جائے گی لیکن اسے استعمال زمین پر کیا جائے گا“۔

جاکسا کے مطابق زمین کے برعکس خلامیں شمسی توانائی پیدا کرنے کے فوائد بھی زیادہ ہیں. اس نئے طریقے سے موسم اور وقت کے قید کے بغیر مستقل بنیادوں پر توانائی کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔

جاپانی سائنس دانوں کے مطابق ایک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی طرح خلا میں بڑے شمسی پینلز چھوڑے جائیں گے،جو سورج کی توانائی کو جمع کرتے ہوئے اسے زمین کے ایک مخصوص حصے میں ٹرانسفر کریں گے۔

پینلز کے ساتھ اینٹینے ہوں گے اور یہ زمین سے 36 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں گے.ابتدائی اندازوں کے مطابق سن دو ہزار چالیس تک خلا سے وائرلیس توانائی زمین تک پہنچائی جائے گی۔

واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں یہ ایک انقلابی منصوبہ ہوگا اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے ایک تاریخی تجربہ گزشتہ برس مارچ میں کیا جاچکا ہے جس میں سائنس دانوں نے 1.8 کلوواٹ بجلی مائیکرو ویوز کے ذریعے 55 میٹر دور بھیجی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

فیس ماسکس سے کیسے وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کیسے مدد مل سکتی ہے

فیس ماسکس سے وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کیسے مدد مل سکتی ہے

وائرس سب سے پہلے ناک کے اندرونی نظام کو متاثر کرتا ہے اور پھر زیریں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے