امریکی مداخلت پر ونیز ویلا کے صدر کی نکتہ چینی

امریکی مداخلت پر ونیز ویلا کے صدر کی نکتہ چینی

ونیز ویلا کے صدر نکولس میدورو نے امریکہ اور اس کی پھٹو حکومتوں پر ایک بار پھر نکتہ چینی کی ہے۔

 دوسری بار ملکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر میدورو نے کہا کہ ونیز ویلا شمالی امریکہ کے سلطنت پسند ملکوں کی جانب سے شروع کردہ عالمی جنگ کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیما گروپ کے ملکوں نے ان سے حلف نہ اٹھانے اور اقتدار سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ونیزویلا میں نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں۔
نکولس میدورو نے اسے اپنے ملک کے اندرون معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا۔
قابل ذکر ہے کہ لیما گروپ میں ارجنٹائن، برازیل، کینیڈا، چلی، کولمبیا، کوسٹاریکا، گوئٹے مالا، گیانا، ہنڈوراس، پانامہ، پیرا گوئے، پیرو، سینٹ لوئیس اور میکسیکو جیسے ممالک شامل ہیں۔
امریکہ کی ایما پر یہ گروپ سن دو ہزار سترہ میں حکومت ونیز ویلا پر دباؤ میں اضافہ کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔

شام سے ایک ایک ایرانی جنگجو کو نکال باہر کیا جائے گا: امریکی وزیر خارجہ

یہ بھی پڑھیں

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

تہران: ایرانی رضاکار فورس بیسج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے