امریکا اور پاکستان, کے, درمیان شدید, بدگمانی, موجود

امریکا اور پاکستان کے درمیان شدید بدگمانی موجود

اسلام آباد: سفیر علی جہانگیر صدیقی نےدونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگیوں ، بطور سفیر چیلنجز اور افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار سے متعلق بات چیت کی

علی جہانگیر صدیقی مئی سے دسمبر 2018 تک واشنگٹن میں تعینات رہے۔
امریکا کی جانب پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے سے متعلق علی جہانگیر صدیقی نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ امریکا اسے ایک غیر منصفانہ مطالبہ سمجھتا تھا یا نہیں لیکن پاکستان نے امریکا سے تعلقات کے لیے بہت زیادہ کیا اور اس کی قیمت بھی چکائی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ امریکا کی جنوبی ایشیا کے لیے حکمت عملی کامیاب نہیں تھی۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین ایک طویل عرصے سے وسیع پیمانے پر مذاکرات نہیں ہوئے جس کی وجہ سے دونوں اطراف کی جانب سے وضاحت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر باراک اوباما کے دورِ اقتدار میں بھی اسٹریٹیجک مذاکرات اس وقت ہوئے جب دو طرفہ تعلقات بہت تیزی سے خراب ہورہے تھے اس لیے یہ مسئلہ کافی سنجیدہ ہے۔
علی جہانگیرصدیقی نے کہا کہ دونوں اطراف بدگمانی چھائی ہوئی ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کرنی ہوگی، اس کے لیے دونوں ممالک کے رہنماؤں کو سفارت کاروں کے ذریعے تاریخی معاملات پر تبادلہ خیال کرکے سب واضح کرنا ہوگا۔
پاکستان اور امریکا ایک دوسرے کو سمجھنے میں ناکام ہیں اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے، دونوں ممالک کی بیوروکرسی بہترین ہے لیکن ہمارے مقابلے میں امریکی سیاسی نظام بیوروکریسی پر اثرانداز ہوتا ہے، اس لیے ان کے نظام میں سیاسی رخ زیادہ مضبوط ہے۔
دونوں ممالک ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی کی نظر سے دیکھیں تو میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ ہم مختصر مدتی مسائل اور بحران کے حل میں مصروف ہیں جبکہ امریکا سے متعلق طویل المدتی پالیسی پر محدود منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اسکولوں ,کی فیسوں, میں کمی, سے متعلق کیس میں تحریری فیصلہ جاری

اسکولوں کی فیسوں میں کمی سے متعلق کیس میں تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد: عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسکولوں کی فیسوں میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے