کراچی کے نصف واٹر ہائیڈرنٹس بند کرنے کا حکم

عدالت نے 6 کے علاوہ باقی تمام ہائیڈرنٹس ختم کرنے کی ہدایت کردی۔ بورڈ کے ایگزیکٹیو انجینئر راشد صدیقی کے خلاف کارروائی سے متعلق بھی ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی گئی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں واٹر ہائیڈرنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے کراچی میں ہائیڈرنٹس کی اہمیت اور پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رپورٹ جمع کروائی۔

رپورٹ میں ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ کراچی کے ہر ضلع میں ایک ہائیڈرنٹ چلانے کی اجازت دی جائے۔ کراچی میں 6 ہائیڈرنٹس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت کراچی میں 12 ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں۔ ایک ہائیڈرنٹ این ایل سی کے لیے رکھا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میرا گھر ڈیفنس میں ہے آج تک پانی کا ایک قطرہ لائن سے نہیں آیا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کراچی کو پانی دینے کے لیے والو مین کو اختیار دیا گیا ہے۔ آپ میٹر نہیں لگانا چاہتے، صرف والو مین سے پانی دینا چاہتے ہیں۔

اس موقع پرعدالت نے 6 کے علاوہ باقی ہائیڈرنٹس 3 روز میں ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 6 ہائیڈرنٹس کے لیے پانچ ہفتوں میں ٹینڈر بھر کے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی جائے۔

دوران سماعت عدالت نے غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ٹینڈر ڈمی اخبار میں چھپوانے والے ایگزیکٹیو انجینئر راشد صدیقی کے خلاف کارروائی سے متعلق استفسار کیا۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے آگاہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ طاقتور ہوں گے اس لیے کارروائی نہیں کی گئی۔

عدالت نے انجنیئر راشد صدیقی کے خلاف کارروائی کی ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے