چین کو عدالتی فیصلے پر عمل کرنا ہی ہوگا

امریکی صدر نے یہ بات جمعرات کو لاؤس میں ایشیائی ممالک کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔

خیال رہے کہ فلپائن کی حکومت بحیرۂ جنوبی چین پر چین کے دعوے کے خلاف مقدمہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں لے گئی تھی تاہم چین نے اس حوالے سے اس ثالثی عدالت کے اختیار کو مسترد کرتے ہوئے اس کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

رواں برس جولائی میں نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں موجود ثالثی عدالت ’پرمیننٹ کورٹ آف آربٹریشن‘ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ چین نے تاریخی اعتبار سے اس خطے پر خصوصی طور پر سمندر اور وسائل پر کنٹرول رکھا ہو۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے سے متعلق کہا کہ اس نے خطے میں سمندری حقوق کو واضح کیا ہے اور چین بحیرۂ جنوبی چین پر اپنے بے جا دعوے کی وجہ سے عدالتی فیصلے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال سے علاقائی کشیدگی بڑھ رہی ہے جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

‘اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

ایران : صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے