بلوچستان, میں ,اب تک 33 ڈاکٹر اغوا، 18 ٹارگٹ کلنگ, میں ہلاک

بلوچستان میں اب تک 33 ڈاکٹر اغوا، 18 ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

بلوچستان: ڈاکٹر تنظیموں کے مطابق اب تک 33 ڈاکٹر اغوا، 18 ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تین لاپتہ ہوئے ہیں اور لگ بھگ 90 ڈاکٹر اور اُن کے خاندان بدامنی کی وجہ سے صوبہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں

دو ہفتے قبل کوئٹہ کے جناح ٹاون سے اغوا ہونے والے ڈاکٹر ابراہیم خلیل صوبے کے 33ویں ڈاکٹر ہیں جنھیں اغوا کاروں نے تاوان کے لیے اغوا کیا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ مندوخیل کے مطابق اغوا کار اتنے طاقتور ہیں کہ صوبائی حکومت اور اُن کے وزرا بھی بےبس نظر آتے ہیں: ’جب ہم حکومتی عہدیداروں سے ملتے ہیں، تو ہمیں اُن کی بےبسی کا صاف پتہ چلتا ہے۔
ڈاکٹر کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ابراہیم خلیل کے اغوا کو دو ہفتوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، لیکن ابھی تک پولیس یا صوبائی حکومت کی جانب سے اُن کو کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
گذشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں ڈاکٹر اغوا برائے تاوان کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔
ماضی میں اغوا ہونے والے کئی ڈاکٹروں اور اُن کے خاندان سے بات کی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انھیں کیسے اغوا کیا گیا، کیسے اُن کے خاندان نے اغوا کاروں کو تاوان کی رقم پہنچائی اور حکومتی اداروں کا ردِ عمل کیا تھا۔
اگرچہ بعض ڈاکٹروں کو صوبے کے دوسرے شہروں سے اغوا کیا گیا ہے، لیکن 20 کے قریب ڈاکٹر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے دن دہاڑے اغوا ہوئے ہیں۔
جون 2013 میں بلوچستان کے ایک شہر سے اغوا ہونے والے ایک ڈاکٹر کے مطابق اُن کو دن دہاڑے دو شہروں کے درمیان ایک شاہراہ سے مسلح اغوا کار اغوا کر کے لے گئے۔
اس ڈاکٹر کے مطابق اُن کو 38 دن اُسی شاہراہ کے قریب ایک گاؤں میں رکھا گیا اور 13 دن اُسی شہر کے ایک اور گاؤں میں جبکہ ڈیڑھ ماہ شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے ایک گھر میں قید رکھا گیا۔
’بلوچستان سے میران شاہ تک مجھے دو دن میں لے گئے، جب چیک پوسٹ پر سے گزارتے تھے، تو پہلے بتایا جاتا کہ یہ امریکیوں کی چیک پوسٹ ہے، اگر آپ نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی، تو یہیں گولی ماریں گے۔ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ یہ ہماری اپنی ہی چیک پوسٹس تھیں۔‘
اغوا ہونے والے اس ڈاکٹر کے مطابق اُن کے خاندان سے پہلے اغواکاروں نے 50 کروڑ تاوان طلب کیا لیکن بعد میں ساڑھے تین کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد اُنھیں رہا کر دیا گیا۔
جب ساڑھے تین کروڑ روپے تاوان دینے پر میرے خاندان والے راضی ہوئے تو مسئلہ یہ تھا کہ یہ رقم اغوا کاروں تک کیسے پہچائیں گے۔ میرے خاندان والوں نے علاقے کے ایک قبائلی ملک کانام دیا کہ تاوان کی رقم ہم اس ملک کے ذریعے آپ تک پہنچائیں۔ اغواکاروں نے اس لیے انکار کیا کہ ملک چونکہ پھر ہم سے زیادہ طاقتور ہے، اس لیے اُن سے نہیں لے سکتے۔ پھر بعد میں میران شاہ کے ایک ڈاکٹر کے ذریعے خاندان والوں نے یہ رقم اغواکاروں تک پہنچائی۔‘
اس ڈاکٹر کے مطابق جب یہ ساڑھے تین کروڑ روپے پھر اُس ڈاکٹر نے اغواکاروں کے حوالے کیے تو ڈاکٹر نے اُن سے کہا کہ یہ رقم گن لیں۔ اغواکاروں نے جواب دیا، ’نہیں گننے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
کوئٹہ شہر کے ایک اور ڈاکٹر جنھیں 2011 میں اغوا کیا گیا تھا، لگ بھگ 20 دن کے بعد تب رہا کر دیے گئے جب اُن کے خاندان نے تاوان کی رقم ادا کی۔
’کوئٹہ شہر کے ایک مصروف ترین بازار کی ایک سڑک کو مسلح افراد نے بلاک کیا تھا۔ دو گاڑیوں میں آٹھ سے دس مسلح افراد نے میری گاڑی روکی اور گن پوائنٹ پر گاڑی سے اُتار کر اُن کی گاڑی میں بیٹھا دیا گیا۔ دو سے تین گھنٹے سفر کے بعد مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا، پھر تاوان کی ادائیگی تک مجھے وہاں رکھا گیا۔‘
اس ڈاکٹر کے مطابق اُن کے خاندان سے پہلے 14 کروڑ تاوان طلب کیا گیا اور پھر ہوتے ہوتے آخر میں دو کروڑ تاوان کی ادائیگی کے بعد اُنھیں رہا کر دیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق تاوان کی یہ رقم بلوچستان ہی میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے اغواکاروں کو دی گئی۔
کوئٹہ شہر سے 2013 میں اغوا ہونے والے ایک ڈاکٹر کے خاندانی ذرائع کے مطابق اُنھوں نے پانچ کروڑ روپے اغوا کاروں کو دیے اور تاوان کی رقم دینے کے ایک دن کے بعد مغوی ڈاکٹر کو رہا کر دیا گیا۔
’ہمیں بتایا گیا کہ ایک گاڑی میں رقم لے کر کوئٹہ شہر کے علاقے سریاب روڈ آ جائیں۔ ہم ایک گاڑی میں سریاب کے علاقے میں بتائی گئی ایک گلی میں پہنچے تو وہاں اغواکاروں کے بندے دو موٹر سائیکلوں پر آئے اور ہم نے رقم سے بھرا بریف کیس اُن کے حوالے کیا۔‘
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ سیاست دان، تاجر اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا ہے، لیکن ان میں سب سے زیادہ ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کی تنظیم میں سرگرم بعض ڈاکٹروں نےبتایا کہ اغوا کار اور اُن کے سرغنہ بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشن کی معلومات کی بنیاد پر کسی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں اکثر ڈاکٹر نجی ہسپتالوں میں پریکٹس کرتے ہیں اور اُن پر الزام ہیں کہ اپنی تنخواہوں سے زیادہ ان ہسپتالوں میں کماتے ہیں۔
حکومتی اداروں کی جانب سے بلوچستان میں فعال ان اغواکاروں کے بارے میں کبھی کوئی معلومات نہیں دی گئیں، لیکن بعض ذرائع الزام لگاتے ہیں کہ اغواکاری کے بعض گروہوں کی سرپرستی بعض سیاسی پس منظر رکھنے والی اہم شخصیات کر رہی ہیں۔
بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کے اس کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام ماضی میں بعض سیاست دانوں، وزرا، مقتدر حلقوں کے آلہ کاروں پر بھی لگتا رہا، لیکن لگ بھگ ایک عشرے سے جاری اس کاروبار میں نہ کبھی کسی کو تاوان کی ادائیگی کے بغیر رہا کروایا گیا ہے اور نہ ہی اُن کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہے جن پر الزام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غذائیت, کی کمی کے, شکار بچوں کی تعداد میں, تشویشناک حد تک اضافہ

غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ

بلوچستان: غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے