حکومت مراد علی شاہ کا نام, ای سی ایل میں, ڈالنے کا کیا, جواب دے,گی

حکومت مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کیا جواب دےگی

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کررہا ہے

جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق سمیت دیگر جے آئی آرکان سپریم کورٹ میں موجود ہیں جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان ابوطالب، پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف، لطیف کھوسہ، فاروق ایچ نائیک، فرحت اللہ بابر اور دیگر بھی عدالت میں موجود ہیں۔
عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے ان سب کے نام ای سی ایل میں کیوں ڈالے، آپ کے پاس کیا جواز ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ 172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کیا جواز ہے، یہ اقدام شخصی آزادیوں کے منافی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، حکومت مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کیا جواب دے گی۔
سپریم کورٹ نےای سی ایل میں نام ڈالنے کے حوالے سے وزیرداخلہ شہریار خان آفریدی سے جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ای سی ایل میں نام ڈالنا اتنی معمولی بات ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے کیس میں پیش ہونے سے معذرت کرلی، عدالت عظمیٰ نے فاروق ایچ نائیک کی استدعا مسترد کر دی۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک مقدمے میں آصف زرداری کے وکیل تھے، جےآئی ٹی نےفاروق ایچ نائیک کوبھی ملزم بنا دیا۔
وکیل نے بتایا کہ جےآئی ٹی کی بنیاد پرفاروق نائیک نے آصف علی زرداری اورفریال تالپور کی وکالت سے معذرت کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کو پیش ہونے سے کون روک سکتا ہے؟ وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ انورمجیداورعبد الغنی مجید کا جواب آچکا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ دونوں کی جانب سے مفصل جواب نہیں آیا، تمام دستاویزات ریکارڈ پرموجود ہیں۔
وکیل ایف آئی اے نے بتایا کہ اومنی گروپ تمام متعلقہ دستاویزات مانگ رہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہےانورمجید ،عبدالغنی کا جیل میں رہنے کا دل کرتا ہے، بتادیں کونسی دستاویزات چاہئیں۔
ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ جودستاویزات درکارہیں وہ فراہم کردی ہیں، آصف علی زرداری کی جواب داخل کرانے کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کتنا وقت چاہیے، چار دن کافی ہیں، فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ 4 روزمیں جواب داخل کرا دیں گے۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ابھی صرف جے آئی ٹی رپورٹ آئی، وزرانے تبصرے شروع کردیے، چیف جسٹس نے کہا کہ 172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے یہ کوئی چھوٹی بات ہے؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جےآئی ٹی رپورٹ کے مندرجات کیسے لیک ہوگئی، سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ہمارے سیکریٹریٹ سے کوئی چیزلیک نہیں ہوئی، میڈیا نےسنی سنائی باتوں پرخبریں چلائیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کی گئی جو عدالت نے منظور کرلی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا مراد علی شاہ سندھ کی وزارت اعلیٰ چھوڑ کربھاگ جائیں گے، کیا مراد علی شاہ کا نام اس مؤقف پرڈالا گیا۔
وکیل جے آئی ٹی نے بتایا کہ جےآئی ٹی نے کسی منتخب نمائندے کی نااہلی کی بات نہیں کی، کسی کی نااہلی کی سفارش کرنا جے آئی ٹی کا مینڈینٹ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جےآئی ٹی نے کسی کی گرفتاری کی سفارش نہیں کی، گرفتاری کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مرادعلی شاہ صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، ان کا احترام ہونا چاہیے، جےآئی ٹی کی سفارش تھی توعدالتی حکم کا انتظارکرلیتے۔
وکیل شاہد حامد نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے سوچے سمجھے بغیرنام ای سی ایل میں ڈال دیے۔
عدالت عظمیٰ نے بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت دیگر سے جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب طلبی کے نوٹس جاری کررکھے ہیں۔
جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے ملزمان کے خلاف 16 ریفرنسز دائر کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے