ملک میں 29 سال سےفائز عمر بشیر, سے, عہدہ چھوڑنے ,کا مطالبہ

ملک میں 29 سال سےفائز عمر بشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ

قاہرہ: سماجی کارکنان اور آن لائن پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خرطوم میں سینکڑوں ہزاروں افراد کا ہجوم سڑکوں پر جمع ہے اور دریائے نیل کے ساتھ ساتھ مارچ کرتے ہوئے صدارتی محل کی جانب رواں دواں ہے

مظاہرین حب الوطنی کے نغمے گا رہے ہیں اور ’آزادی‘ اور ’چوروں سے امن‘ کے نعرے لگاتے ہوئے حکمرانوں کو سبکدوش ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
مارچ کو روکنے کے لیے خرطوم کی سڑکوں پر بھاری تعداد میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ فوجی اہلکار وں نے بکتر بند گاڑیوں میں گشت بھی کیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی، آنسو گیس کے شیل برسائے اور لاٹھی چارج بھی کیا لیکن اس کے باوجود مظاہرین نے دوبارہ اکھٹا ہو کر مارچ جاری رکھا تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
احتجاج کی کال کچھ آزاد حیثیت میں کام کرنے والی یونینز نے دی تھی اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں، امہ اور ڈیموکریٹک یونینسٹ نے اس کی حمایت کی۔
احتجاج کے منتظمین ایک پٹیشن جمع کروانا چاہتے تھے جس میں فوجی بغاوت کے بعد 1989 میں عہدہ صدارت حاصل کرنے والے صدر عمر بشیر سے منصب چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مظاہروں کا سلسلہ ایک ہفتے سے جاری ہے جن کا آغاز ایندھن اور خوراک میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج سے ہوا اور صدر عمر بشیر کے صدارت چھوڑنے کے مطالبے تک جا پہنچا۔
اس موقع پر ملک کے حکمران جنوبی خرطوم کے علاقے الجزیرہ میں موجود تھے جہاں انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا جبکہ سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق سڑک اور لڑکیوں کے اسکول کا افتتاح کیا۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے