قائداعظم ایسا پاکستان نہیں چاہتے تھے جیسا اسے بنادیا گیا ہے

برصغیر کے مسلمانوں کو آزاد وطن دینے والے عظیم رہنما کی زندگی اور جدوجہد پر ایک نظر

آج بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے۔

بانیِ پاکستان محمد علی جناح کا 142 واں یومِ پیدائش منایا ہے۔ قائد اعظم 25 دسمبر 1876 کو جس گھر میں پیدا ہوئے، اس کا نام وزیرمینشن ہے اوریہ کراچی کے علاقے کھارادرمیں واقعہ ہے۔

قائد اعظم کے والد جناح پونجا آ پ کی ولادت سے تقریباً ایک سال قبل گجرات سےکراچی آکرآباد ہوئے ، وزیرمینشن کی پہلی منزل انہوں نے کرائے پرلی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال یہاں گزارے، قائد اعظم کے تمام بہن بھائیوں کی ولادت بھی اسی عمارت میں ہوئی۔

سن 1953 میں حکومت پاکستان نے عمارت کو اس کے مالک سے خرید کر باقاعدہ قومی ورثے کا درجہ دیا گیا، اس کی زیریں منزل کو ریڈنگ ہال جبکہ پہلی منزل کو گیلری بنایا گیا اور 14 اگست 1953 کو عوام کے لئے کھول دیا گیا۔

 ’’قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟‘‘

محمد علی جناح آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ، برصغیر کے مسلم عوام کے متفقہ قائد اور تحریک پاکستان کے میرکارواں کی حیثیت سے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی مملکت تعمیر کرنے کی کوششوں میں منہمک تھے جہاں اس خطے کے مسلمانوں کے مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور ان کا اقتصادی، سماجی اور ثقافتی مستقبل محفوظ ہو۔ قوم کی طرف سے قائداعظم کو دیا گیا ہدف بھی یہی تھا اور تحریک پاکستان کا مقصد بھی یہی۔

اس حقیقت سے کسے انکار ہوسکتا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق کی نگہ داشت اور بازیابی کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ کمیونسٹ پارٹی یا جماعت اسلامی کی طرح کوئی نظریاتی اور فلسفیانہ نظام رکھنے والی جماعت نہ تھی۔ لے دے کر ہندوستانی مسلمانوں کے ہندو اکثریت سے علیحدہ ایک قوم ہونے کا نظریہ مسلم لیگ کی سیاست اور تحریک پاکستان کا محور تھا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ پاکستان کی بنیاد بننے والا معروف دو قومی نظریہ کس طرح ’’اُمت‘‘ اور ’’ملت‘‘ کے اسلامی تصورات سے مختلف اور مغربی تصورقومیت کے قریب تر ہے۔ چناں چہ مسلم لیگ مختلف الخیال مسلمانوں کی جماعت تھی اور تحریک پاکستان بھی باہم متضاد فکری مکاتب سے وابستہ افراد نے شانہ بہ شانہ چلائی، اور یوں پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی جائے امان کے طور پر وجود میں آیا۔

اس پس منظر میں اس نئی مملکت کی نظریاتی سمت کا تعین تین طریقوں سے ممکن تھا: قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں، رائے عامہ کے ذریعے، کسی جبر (انقلاب) کے نتیجے میں۔ ملک کی مقتدر قوتوں اور طاقت ور طبقات کے لیے یہ تینوں صورتیں ہی گوارہ نہ تھیں، کیوں کہ تینوں صورتوں میں انھیں اپنے ماورائے قانون اختیارات، مفادات اور طاقت کی قربانی دینی پڑتی۔ صوبائی، قومیتی اور لسانی اختلافات اور سیاسی تماشوں میں انقلاب محض ایک رومانی تصور اور نعرہ بنارہا، رائے عامہ کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا گیا، رہے قائداعظم کے افکار، تو ایک طرف ’’قائداعظم کا پاکستان‘‘ کے خواب کے ذریعے عوام کو ملک کی سمت دکھائی گئی، لیکن ’’اسلامی‘‘ اور ’’سیکولر‘‘ کی اصطلاحات اور ہر دو ریاستی نظاموں کا پرچار کرتے بابائے قوم کے اقوال وافعال کے مباحث قوم کو کولہو کے بیل کی طرح اس نکتے کے گرد گھمارہے ہیں کہ ’’قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔‘

محمدعلی جناح جس مسلم قوم کے لیے جدوجہد کر رہے تھے وہ انگریز کی غلامی میں مبتلا اور ہندو اکثریت کے تعصب ہی کا ہدف نہ تھی، اپنے ہم مذہب جاگیرداروں، نوابوں اور سرداروں کی فرعونیت اور ظلم نشانہ بھی تھی، یہ صورت حال اس قوم کے قائد پر پوری طرح عیاں تھی۔ پھر سرمایہ داری کے گڑھ لندن میں برسوں گزارنے اور ہندوستان میں بہ طور وکیل اور سیاست داں سرگرم رہنے والے اس ذہین وفطین راہ نما پر غلام ہندوستان میں زرگر انگریزوں کے زیراقتدار سرمایہ داروں اور سودخور مہاجنوں کا لالچ، سرمائے میں بڑھوتری اور مزدور کے خون سے زر کشید کرنے کے لیے ان کے ہتھ کنڈے بھی پوری طرح آشکار تھے۔ ایسے میں وہ ان معاملات پر خاموش رہتے تو یہ امر حیرت انگیز ہی نہیں ہوتا بہت سے سوال بھی چھوڑ جاتا۔ اگر ان حقائق پر انھوں نے کم بات کی تو اس کی وجہ صرف یہ ہوسکتی ہے کہ مسلم عوام کی قیادت کرنے والے جاگیردار طبقے کو خائف کرکے وہ پاکستان کی منزل نہیں پاسکتے تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے جب جب ان حقائق پر بات کی کُھل کر بات کی۔

 پاکستان بننے سے تقریباً چار سال قبل کی گئی اس تقریر کا ایک اقتباس

’’پاکستان میں عوام کی حکومت ہوگی۔ میں ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہہ کرنا چاہوں گا جنھیں ایک فاسد اور ظالمانہ نظام نے اتنا بے حس اور خودغرض بنادیا ہے کہ کسی دلیل یا فہمائش کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ عوام کا استحصال ان کے خون میں سرایت کرچکا ہے اور وہ اسلام کی تعلیمات کو بُھلا بیٹھے ہیں۔ لالچ کے باعث یہ لوگ عوام کی بہتری کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔ ملک میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے، کیا اسی کا نام تہذیب ہے؟ کیا پاکستان اسی لیے بنایا جارہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کا استحصال جاری رہے؟ اگر یہی پاکستان کا تصور ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے۔‘‘

(مسلم لیگ کے تئیسویں سالانہ اجلاس سے خطاب، 24 اپریل1943)

اہم موقع پر قیام پاکستان کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

’’ہمارا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ مال دار لوگ اور زیادہ مال دار ہوجائیں اور دولت چند ہاتھوں میں اکٹھی ہوجائے۔ ہمارا مطمعٔ نظر یہ ہونا چاہیے کہ عوام کے معیارِزندگی کے درمیان فرق دور کریں۔ ہمارا نصب العین اسلامی معیشت ہونا چاہیے نہ کہ سرمایہ دارانہ نظام۔ ہمیں ہمیشہ پیشہ ورانہ مفاد کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔‘‘

بابائے قوم کے وہ صاف، واضح اور زمین سے جُڑے افکار جن سے پہلوتہی ہی نہیں کی گئی انھیں پردۂ اخفا میں رکھنے کی بھی ہرممکن کوشش کی گئی ہے۔ یہی وہ افکار ہیں جو بتاتے ہیں کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے

بانیٔ پاکستان اپنی تشکیل کردہ ریاست میں سرمایہ دارانہ نظام نہیں چاہتے تھے، جس کی بنیاد سود، سرمائے کے دیوتا کے قدموں میں ہر اخلاقی، مذہبی اور معاشرتی قدر قربان کردینے اور سرمایہ داروں کو کُھلی چھوٹ دینے پر استوار ہے۔

بہ ظاہر اپنی وضع قطع، زبان اور طرززندگی میں ’’مغرب زدہ‘‘ نظر آنے والے محمد علی جناح مغربی اقدار اور نظریات، خاص کر مغرب کے اقتصادی نظام سے کس حد تک بے زار تھے، اس کا اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے:

’’مغربی اقدار، نظریے اور طریقے خوش وخرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا جس کی اساس

انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استوار ہو۔‘‘

(اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب، یکم جولائی 1948)

قائداعظم ایسا پاکستان نہیں چاہتے تھے جیسا اسے بنادیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

پرانے کپڑے

میم آپ اپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں تحریر: زینب بخاری میری کلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے