,زرداری، بحریہ ٹاؤن, اور, اومنی گروپس, کی ,زیر ,تفتیش ,جائیداد, کی ,خریدوفروخت ,پر ,پابندی ,عائد

زرداری، بحریہ ٹاؤن اور اومنی گروپس کی زیر تفتیش جائیداد کی خریدوفروخت پر پابندی عائد

لاہور: سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں(جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں بتائی گئی زرادری گروپ، اومنی گروپ اور بحریہ ٹاؤن گروپ کی جائیداد کی خریدو فروخت اور منتقلی پر پابندی عائد کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ نے رپورٹ پیش کی۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے کمرے میں پروجیکٹر لگانے کا حکم دیا اور ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کی سمری اوپن عدالت میں پروجیکٹر پر چلائی جائے گی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے مالکان کے وکلا منیر بھٹی اور شاہد حامد سے مکالمہ کیا کہ لگتا ہے کہ اومنی گروپ کے مالکان کا غرور ختم نہیں ہوا، قوم کا اربوں روپے کهاگئے اور پهر بهی بدمعاشی کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے انور مجید کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ لگتا ہے کہ انہیں اڈیالہ جیل سے کہیں اور شفٹ کرنا پڑے گا، انور مجید کے ساتھ اب کوئی رحم نہیں، آپ وکیل ہیں، آپ نے فیس لی ہوئی ہے، آپ کو سنیں گے لیکن فیصلہ ہم نے ہی کرنا ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سابق صدر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کیا کہ اربوں روپے کے کھانچے ہیں، معاف نہیں کریں گے۔

اس موقع پر کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا گیا، وقفے کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری، بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض اور زین ملک کو نوٹس جاری کردیے۔

بلاول ہاؤس کے خرچے جعلی اکاؤنٹس سے کیے گئے، جے آئی ٹی رپورٹ

سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے آصف علی زرداری کے ذاتی اخراجات کی ادائیگیاں کی گئیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ کا خرچ جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کیا جاتا رہا، بلاول ہاؤس کے کتے کا کھانا اور 28 صدقے کے بکروں کے اخراجات بھی انہی اکاؤنٹس سے دیے گئے۔

منی لانڈرنگ کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ نے زرداری سسٹم کو عیاں کر دیا: شہزاد اکبر

عدالت میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 27 لاکھ کے صدقے کے جانور، یعنی کتے کا کھانا بھی اومنی گروپ سے جارہا ہے؟

سربراہ جے آئی ٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق نے بتایا کہ کراچی اور لاہور کے بلاول ہاؤس کے اخراجات جعلی اکاؤنٹس سے ادا کیے گئے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا لاہور کا بلاول ہاؤس قانون کے مطابق بنا ہے؟

اس پر سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ زرداری گروپ نے 53 ارب 40 کروڑ روپے کے قرضے حاصل کیے جبکہ 24 ارب روپے کا قرض سندھ بینک سے لیا گیا، حالانکہ سندھ بینک زیادہ سے زیادہ 4 ارب روپے کا قرض دے سکتا ہے، اس کے علاوہ اومنی گروپ نے اپنے گروپ کو 5 حصوں میں تقسیم کرکے قرض لیا۔

دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 53 ارب روپے کا تو صرف قرض ہے اور باقی جعلی اکاؤنٹس کی رقم کا کیا بنے گا؟

سماعت کے دوران ماڈل ایان علی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایان علی کہاں ہیں؟کیا وہ بیمار ہو کر پاکستان سے باہر گئیں؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کوئی بیمار ہو کر ملک سے باہر چلا گیا تو واپس لانے کا طریقہ کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں ہر معاملے کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے

وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں ہر معاملے کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے

لاہور: ہائیکورٹ میں پٹرول بحران اور قیمتوں میں اضافہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے