کتاب اور, انسان کا, تعلق بہت, پرانا ہے

کتاب اور انسان کا تعلق بہت پرانا ہے

قدیم زما نے میں جب انسان کے پاس قلم اور کاغذ جیسی سہولیات نہیں تھیں تب بھی وہ غاروں اور پہاڑوں میں کوئلے اور مختلف طرح کے رنگوں سے پتھر پر لکھ کر اپنا شوق پورا کرتا تھا

ٹیکنالوجی کی آمد اور بدلتے رہن سہن کے ساتھ لکھنے اور پڑھنے کے طریقے بھی بتدریج اپ ڈیٹ ہوتے گئے مگر انسان کی زندگی میں ان کی اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے، کتاب نہ صرف تنہائی بلکہ سفر میں بھی ایک اچھا دوست ثابت ہوتی ہے، اسی لیے باذوق افراد ہر نئی شائع ہونے والی کتاب کی تلاش میں رہتے ہیں۔
ہر سال کی طرح 2018 میں بھی دنیا کی مختلف زبانوں میں بے شمار کتابیں شائع ہوئیں، جن سے لوگوں نے بے شمار معلومات حاصل کی، مگر ان بے شمار کتانوں میں سے عالمی سطرح پر صرف ان ہی کتابوں نے توجہ حاصل کی جو انگریزی زبان میں شائع ہوئیں اور اس زبان میں بھی شائع ہونے والی ہر کتاب کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔

1۔ ایجوکیٹڈ
جینرا: یادداشت۔ سوانحِ حیات

مصنف: تارا ویسٹو ور

تارا ویسٹو ور امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت خاتون، تاریخ دان اور مصنف ہیں، مگر دنیا میں ان کا سب سے بڑا حوالہ 2018 میں شائع ہونے والی ان کی سوانح حیات ‘ ایجوکیٹڈ’ ہے۔
تارا کا تعلق امریکا کے ایک کم آبادی والے علاقے فرینکلن- اڈھاؤ کے ایک پسماندہ خاندان سے ہے، ان کے والد انتہائی سخت مزاج، اکھڑ، مذہبی شدت پسند اور اپنے بچوں کی تعلیم کے خلاف تھے، جب کہ ان کی والدہ ایک متحمل مزا ج گھریلو خاتون تھیں، جو شوہر کے تند رویوں کو سہتے ہوئے اپنے 7 بچوں کی بہتر تربیت کے لیے مسلسل کوشاں تھیں۔
والد کے علاوہ تارا کو اپنے بڑے بھائیوں کی مار پیٹ کا بھی سامنا رہا جو اس کے گھر سے غیر ضروری طور پر باہر نکلنے اور لڑکوں سے دوستی کے سخت مخالف تھے۔
گھر میں آمدنی کے ذرائع محدود اور ہر طرف غربت، کسم پرسی اور ظلم و جبر کا راج تھا، اس طرح کے شدید تنگ ماحول سے لڑتے ہوئے اس باہمت لڑکی نے نہ صرف کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا بلکہ محض 32 برس کی عمر میں آج دنیا کے بہترین مصنفین میں شمار کی جارہی ہیں اور ان کی پہلی کتاب ایجوکیٹڈ کو گڈ ریڈز کی سال 2018 کی بہترین کتاب کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔
کتاب کی آخری لائن میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں قدامت پسندانہ سوچ اور ظلم سے لڑتی ہر عورت کے لیے بہترین پیغام ہے کہ ‘میں نے اپنی ساری جدو جہد کے دوران خود کو دریافت کیا اور میں سمجھتی ہوں کہ یہی اصل تعلیم ہے’۔

2۔ اے سائیمیٹری
جینرا۔ ناول

مصنف: لیزا ہیلیڈے
لیزا ہیلیڈے کا ناول ‘اے سائیمیٹری ‘سال 2018 کی دوسری اہم کتاب ہے، ناول کے اہم کردار ایلس نامی ایک نوجوان لڑکی ( جو ایک پبلشنگ ہاؤس میں اسسٹنٹ ایڈیٹر ہے ) اور ایک مشہور ناول نگار ‘ ایزرا بلیزر’ ہیں۔ ایزرا بلیزر دراصل فلپ روتھ کا کردار ہے، جن سے اپنی نوجوانی میں لیزا ہیلیڈے کا معاشقہ رہ چکا ہے، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ناول میں مصنف نے اپنے نوجوانی کے تجربات کو کچھ مختلف اور منفرد انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں وہ یقیناً کامیاب بھی رہی ہیں۔
ناول کے آغاز میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قاری ایک اور ‘ می ٹو’ کہانی پڑھنے چلا ہے ، جہاں ایک ضعیف دولت مند اور معروف آدمی ایک معصوم، سادہ اور خوبصورت لڑکی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا نظر آتا ہے، مگر آگے چل کر معلوم پڑتا ہے یہی شخص ایلس کو کچھ ایسی اہم باتیں بھی سکھا دیتا ہے جو زندگی بھر اس کے کام آتی ہیں۔
ناول اکیسویں صدی کے آغاز میں امریکا کی عراق پر چڑھائی کے پس منظر کے ساتھ لکھی گئی ہے اور اس کا ایک اور اہم کردار ‘ امر’ امریکی نژاد عراقی ہے، جسے لندن میں بارڈر پر گھیر لیا جاتا ہے اور کہانی کا دوسرا حصہ امر کے ماضی کے واقعات کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔
ناول میں ایزرا بلیزر کے متعدد دفعہ ادب میں نوبل انعام حاصل کرنے میں ناکامی کا بھی تفصیلی احوال ملتا ہے جو کہانی کچھ اور پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیا مشکل حالات میں ہمیں اپنے مقاصد سے فرار حاصل کر لینا چاہیے، اگر نہیں تو ان کو حاصل کرنے کے لیے کون سے رسک لینا ضروری ہیں؟ انہیں جیسے کئی اور سوالات اور انسانی نفسیات کی گتھیوں کو سلجھاتا یہ ناول بلاشبہ لیزا ہیلیڈے کی ایک قابل ستائش کوشش ہے۔

3۔ دی اممیئر ایبل ورلڈ
مصنف : ولیم ایشکنز

اممیئر ایبل ورلڈ کے مصنف ولیم ایشکنز اپنی مہمات کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں مگر ان کا یہ نیا سفر نامہ اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں وہ قاری کو عمان کے ریگستانوں سے لے کر آسٹریلیا، چین، ایریزونا اور اتھا تک ایک وسیع رقبے پر پھیلے دنیا کے اہم ریگزاروں کی سیر کروا رہے ہیں۔
سفر نامے کے آغاز میں ولیم ایشکنز نہایت ایمانداری کے ساتھ بتاتے ہیں کہ یہ سفر مہم جوئی سے زیادہ دراصل ایک ناکام معاشقے کے بعد اپنی ذاتی زندگی کے مسائل سے نجات حاصل کر نے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سفر کا آغاز عمان کے ریگستانوں سے ہوتاہے جس کے بعد ولیم ایشکنز ، آسٹریلیا، چین ، ایریزونا کے جنگلات اور پھر ایتھا کے ریگستانوں کا رخ کرتے ہیں اور اس طویل سفر کے دوران صحرا سے متعلق اپنے ذاتی مشاہدات کو انہوں نے بے حد خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
جب آپ صحرا میں اترتے ہیں تو کچھ وقت کے لیے یہ آپ کو اندھا کر دیتا ہے، مگر جس طرح صحرا رات کی تاریکی میں بھی کبھی خاموش نہیں ہوتا اسی طرح یہ کبھی ساکن بھی نہیں ہوتا، سفر نامے میں آسٹریلیا میں واقع ‘ مارالنگا نیوکلیئر سائٹ’ کا بھی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، یہ ایک ایسی تباہ حال جگہ ہے جہاں صحرا کے گرم تھپیڑے ہمیں مستقبل کی حولناک ایٹمی جنگوں کی درد ناک کہانیاں سناتے محسوس ہوتے ہیں ۔

4۔ ریڈ مون
ینرا : سائنس فکشن ناول

مصنف: کم سٹینلے روبنسن

ریڈ مون سال 2018 میں گڈ ریڈز پر سب سے زیادہ پڑھا جانے والا سائنس فکشن ناول ہے، جس کے مصنف کم سٹینلے روبنسن ہیں۔
ناول کا پلاٹ تھرلر ہے مگر اس کے برعکس کہانی بہت تیزی سے چلنے کے بجائے دھیرے دھیرے آگے بڑھتی ہے اور قاری کو اپنی گرفت میں لیتی چلی جاتی ہے۔
ناول کی کہانی اب سے 30 سال آگے کے دور کی ہے جہاں خلاء میں سفر عام ہے اور فریڈ فریڈرک نامی ایک شرمیلا سا نوجوان جو ایک سوئس کمپنی میں ملازم ہے اسے چاند تک سفر کرنے کا موقع ملتا ہے تاکہ وہاں چینی کالونی میں کمیونیکیشن کا ایک مخصوص آلہ نصب کر سکے مگر وہاں جاکر حالات تبدیل ہوجاتے ہیں اور اسے اپنی کالونی میں کچھ دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وہیں اس کی ملاقات ‘چان کی’ نامی ایک لڑکی سے ہوتی ہے جو ایک بیوروکریٹ کی بیٹی ہے اور مشکل حالات کا شکار ہے۔
دونوں چاند سے فرار ہو کر چین واپس چلے جاتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد نئے منصوبے اور تیاریوں کے ساتھ دوبارہ چاند پر جاتے ہیں۔
کہانی میں چین میں آنے والے معاشی انقلاب اور امریکا کے ہم پلہ سپر پاور بن جا نے کے حالات اور زمین پر ہونے والی سیاسی یا معاشی تتبدیلیاں چاند پر رہنے والے افراد پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں ان سب تفصیلات کی منظر کشی بے حد خوبصورت انداز میں کی گئی ہے اور کہانی بے جھول ہے۔

5۔ دیئر دیئر
جینرا : فکشن، ناول

مصنف: ٹومی اورنج

2018 میں شائع ہونے والا ایک اور اہم ناول ‘دیئر دیئر’ بھی ہے جس کی بولڈ کہانی گیر ٹروڈ سٹین لین کی لکھی گئی ایک اہم سطر ” دیئر از نو دیئر دیئر” کے گرد گھومتی ہے جو انہوں نے اپنے آبائی علاقے اوکلینڈ کیلی فورنیا کے متعلق کہی تھی جو اتفاق سے ناول کے مصنف ٹومی اورنج کا آبائی شہر بھی ہے۔
ناول کی کہانی اس علاقے میں رہنے والے امریکی افراد کی زندگی رہن سہن اور رسم و رواج کا احاطہ کرتی ہے’ چی یینی ‘ اور آرا پاہو’ نامی یہ قبائل دراصل انڈین ہیں اور کافی عرصے پہلے ہجرت کر کے اس علاقے میں آکر آباد ہوئے اور اب یہاں کے مقامی باشندوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
مگر انہیں کئی صدیوں تک یہاں پہلے سے آباد مقامی امریکی یا سفید فام افراد کی حقارت اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ناول میں پچھلی صدی کے واقعات کو بہت خوبی کے ساتھ موجودہ تیز ترین دور اور ٹیکنالوجی کی آمد سے آنے والے انقلابات سے جوڑتے ہوئے گیر ٹروڈ سٹین لین کی اوپر بیان کردہ سطر کے ساتھ جوڑا گیا ہے کہ اوکلینڈ کا وہ شہر جس سے اس کے بچپن کی سنہری یادیں وابستہ تھیں اب کہیں نظر نہیں آتا، پہاڑوں، جنگلوں اور چھوٹی چھوٹی عمارتوں سے لے کر یہاں آباد انڈین قبائل کے رہن سہن تک اب ہر شے تبدیل ہو چکی ہے۔
دیئر دیئر ایک ایسے بچے کی داستان ہے جو اپنے بچپن اور اسی معصومیت کا متلاشی ہے مگر وہ اب ناپید ہوچکی ہے۔

6۔ دی آؤٹ سائیڈر
جینرا: فکشن ہارر ناول

مصنف :سٹیفن کنگ

سٹیفن کنگ کا شمار ان گنے چنے مصنفین میں ہوتا ہے جن کے ہر نئے ناول کا شائقین بے چینی سے انتظار کرتے ہیں اور ان کی ہر کاوش مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتی ہے، دی آؤٹ سائیڈر اس ہمہ جہت مصنف کا 61 واں ہارر ناول ہے۔
گذشتہ کچھ عرصے سے سٹیفن کنگ سائنس فکشن کے علاوہ کچھ منفرد تجربات بھی کرتے رہے ہیں جن میں ان کے مشہور ناول ‘ دی شائننگ’ کا سیکوئیل قابلذکر ہے۔
دی آوٹ سائیڈر کی کہانی بیس بال ٹیم کے کوچ ٹیری میٹ لینڈ کے ساتھ پیش آنے والے خوفناک اور حیران کن واقعات کے گرد گھومتی ہے جسے ایک نوجوان کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس کیس پر ڈیٹیکٹو رالف اینڈرسن تحقیقات شروع کرتا ہے، جسے یہ یقین ہے کہ ٹیری نے یہ قتل ہر گز نہیں کیا، اس سلسلے میں پہلا سراغ اسے ایک اخبار کی خبر سے ملتا ہے اور پھر خوفناک واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
دی آؤٹ سائیڈر مکمل ریسرچ کے ساتھ جرم و سزا اور قانون کی عمل داری کا احاطا کرتا ایک بہترین ہارر اور کرائم ناول ہے اور عین ممکن ہے کہ اس کی عمدہ کہانی پر مبنی جلد ہی کوئی ہولی ووڈ فلم بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

پہلے, مولوی بس مولوی, ہوتے تھے تو مولوی ,کسی فرقے, کا بھی ہو

پہلے مولوی بس مولوی ہوتے تھے تو مولوی کسی فرقے کا بھی ہو

بچپن سے دو چیزیں گھٹی میں ڈال دی گئی تھیں۔ جانوروں سے پیار اور علمائے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے