تاجر برادری کی, شکایت کے, اندراج کے لیے علیحدہ مرکز, قائم

تاجر برادری کی شکایت کے اندراج کے لیے علیحدہ مرکز قائم

اسلام آباد: نیب کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بدعنوانی ناسور کی شکل اختیار کرچکی ہے جس کا ہر سطح پر خاتمہ ضروری ہے

حالیہ کچھ عرصے میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تاجر برادری اور سرمایہ کار نیب کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے خوفزدہ ہیں اور اسے وہ ’ہراساں‘ کرنے کا نام دیتے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس میں بھی تاجر برادری کے لیے ایک علیحدہ شکایتی مرکز بنایا گیا ہے۔
آل پاکستان کانٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق جن ٹھیکے داروں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں میگا منصوبوں کا آغاز کیا تھا انہیں نیب نے ہراساں کیا جس کے نتیجے میں تمام ترقیاتی کام روک دیے گئے حتیٰ کے ان منصوبوں میں پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے منصوبے بھی شامل تھے۔
لہٰذا چیئرمین نیب نے فیصلہ کیا کہ وائٹ کالر جرائم اور دھوکہ دہی کے بڑے منصوبوں میں اہم ملزمان پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے صرف ان کی تحقیقات کی جائیں گی جو اس میں براہِ راست ملوث ہوں گے جبکہ اب زیادہ تر بدعنوانی کیسز کو متعلقہ شعبہ جات اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیجا جائے گا۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق 59 فیصد لوگوں نے نیب کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ بین الاقوامی اقتصادی فورم کی بین الاقوامی بدعنوانی فہرست میں پاکستان کا نمبر کم ہوکر 107 ہوگیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر شخص بدعنوانی کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہر کوئی خود احتسابی کو فروغ دیتے ہوئے بدعنوانی، اقربا پروری اور رشوت سے گریز کرے اس سے یقیناً پاکستان کو کرپشن سے پاک ملک بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ نیب نے شکایات کی تصدیق کے بعد ریفرنس فائل کرنے کے لیے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا اور اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں نیب کی ترجیح ہے کہ میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
بیورو کی جانب سے اب تک کل ایک سو 79 میگا کرپشن کیسز میں سے 105 کیسز کو ملک کی مختلف احتساب عدالتوں میں فائل کیا جاچکا ہے۔
اس حوالے سے چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ نیب نے قانون کے مطابق ٹھوس شواہد، دستاویزی ثبوت حاصل کرکے وائٹ کالر کرپشن کیسز کی تحقیقات کیں ۔
انہوں نے بتایا کہ فی الوقت مختلف احتساب عدالتوں میں 9 کھرب روپے کے ایک ہزار 2 سو 10 بدعنوانی کے ریفرنس سماعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔
چیئرمین نیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب نے ریکارڈ 2 سو 97 ارب روپے بدعنوان عناصر سے حاصل کر کے قومی خزانے میں واپس جمع کروائے ہیں اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف جاری تحقیقات بھی جلد مکمل کرلی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے