پاک فوج کی بروقت کارروائی سے پشاور بڑی تباہی سے بچ گیا؛ چار خود کش بمبارھلاک

پشاور  – پاک فوج کی بروقت کارروائی سے پشاور بڑی تباہی سے بچ گیا چار خود کش بمباروں کو مار دیا گیا جبکہ ایک شہری جاں بحق ہو گیا۔ دہشت گرد کرسچن کالونی میں گھس کر مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتے تھے۔

پاک فوج نے ایک مرتبہ پھر پشاور کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ صبح سویرے چار خود کش بمبار پشاور کی کرسچن کالونی میں گھس آئے اور اس دوران سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پاک فوج نے بروقت رسپانس کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں بمباروں کو ابدی نیند سلا کر سیکڑوں شہریوں کی جان بچا لی۔

حملے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ کالونی کے دو سکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خود کش بمبار اسلحے سے لیس تھے اور کالونی میں خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے اس دوران سکیورٹی فورسز اگر بروقت نہ پہنچتیں تو ذبردست تباہی ہوتی۔

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جان بچا لی بہت دیر تک فائرنگ ہوتی رہی۔

حملہ آور کہاں سے آئے ۔۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ واقعے کے بعد شہر بھر کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔  ورسک روڈ پر تعلیمی اداروں اور دیگر حساس عمارتوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کرسچن کالونی حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ بروقت کارروائی قابل تحسین ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر انداز میں دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے اور شہریوں کی جان بچائی۔ فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

333

آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے فورا بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن مکمل کرکے علاقہ کلیئر کر دیا۔ کالونی میں چھپے چار دہشت گردوں کو ٹارگٹ کیا گیا جو اسلحےسے بھی لیس تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد کرسچن کالونی میں مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتے تھے جبکہ کارروائی میں پاک فوج، ایف سی اور پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں

لیویز اور, خاصہ داروں ,کو پولیس میں, ضم کرنے کا, نوٹیفیکیشن جاری

لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس میں ضم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری

پشاور: وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے کہا کہ لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے