آج بھی کے پی کے میں جہاد کیلئے پیسے اکٹھے کئے جا رہے ہیں

اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آج بھی جہاد کیلئے پیس اکٹھے کئے جا رہے ہیں،دہشت گرد کارروائیوں پر انہوں نے کہا حکمران کہیں نظر نہیں آرہے۔عمران خان کو صوبے کی صورتحال دیکھنی چاہئے۔انہوں نے کہا آج بھی کے پی کے میں جہاد کیلئے پیسے اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔
خیا ل رہے کہ آج کے پی کے میں دہشتگردی کے دو واقعات پیش آئے ہیں۔پہلے واقعہ میں دہشت گردوں نے خیبر ایجنسی میں ورسک ڈیم سے ملحق کرسچن کالونی پر حملہ کیا جس میں لیویز اہلکار سمیت 2افراد شہید ہوئے،جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام 4حملہ آور مارے گئے۔ دوسرا واقعہ مردان میں پیش آیا جہاں ضلع کچہری کے گیٹ پر یکے بعد دیگرے دوبم دھماکوں میں2 پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد شہید جبکہ 60زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت نے ہمیں 29 اگست کو پولیو کے حوالے سے جائزاتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا

حکومت نے ہمیں 29 اگست کو پولیو کے حوالے سے جائزاتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا

پشاور: پورے صوبے میں ویکسین مہم کا آغاز کرنے کی کوئی تُک نہیں بلکہ ضرورت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے