پارلیمنٹ, خود مختار, ادارہ, نہیں ہے

پارلیمنٹ خود مختار ادارہ نہیں ہے

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران خواجہ سعد رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی احتساب ادارے (نیب) کے قانون کا ’کالا قانون‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے

انہوں نے احتساب کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ صاف اور شفاف نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بھی احتساب کے عمل سے مطمئن نہیں تھا‘۔
انہوں نے اپنے پروڈکشن آرڈر میں تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسپیکر نے اسے جلدی جاری کیے ہوتے تو نہ ہی اپوزیشن احتجاجاً واک آؤٹ کرتی اور نہ ہی اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ آتی۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ خود مختار ادارہ نہیں ہے، اگر یہ حقیقی خود مختار ہوتا تو اسپیکر نے پہلے ہی دن پروڈکشن آرڈر جاری کردیے ہوتے۔
پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی اسکیم میں اپنی گرفتاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیب کو ان کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایک دیرینہ دوست کو ان ہی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا دیا گیا ہے جبکہ وہ اثاثے جو وہ سالوں سے اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کرتے آرہے ہیں انہیں ان ہی کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ توازن برقرار رکھنے کے لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چند اراکین کو بھی اس ہی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی کو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھنا چاہتے، پاکستان کی عوام نے ہمیں اس لیے ووٹ نہیں دیا کہ ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں‘۔
سابق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کو آپس میں لڑائی ختم کردینی چاہیے اور غربت، تعلیم سمیت ملک کے دیگر مسائل کے خلاف مل کر لڑنا چاہیے۔
انہوں نے سابق آصف علی زرداری کی گرفتاری کے حوالے سے خبر پر اظہار خیال کرتے خبردار کیا کہ ’اگر آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا تو طوفان اور ہیجان کی کیفیت ہو گی‘۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے