ابوظہبی اجلاس پر افغان حکام کا ردعمل

ابوظہبی اجلاس پر افغان حکام کا ردعمل

افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے افغانستان میں عبوری حکومت کی تشکیل کے بارے میں ابوظہبی میں افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر امریکہ، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ طالبان گروہ مذاکرات اور اجلاس کو افغانستان کے بنیادی آئین کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حمداللہ محب نے جمعرات کے روز ابوظہبی اجلاس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے امن کے عمل کے بارے میں گمراہ کرنے والی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم سب کو اس بات کو جان لینا چاہئے کہ کسی بھی ملک، گروہ یا شخص کو افغانستان کی نئی حکومت کے ڈھانچے کے بارے میں کچھ کہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے بنیادی آئین کے مطابق ایک آزاد ملک کی حیثیت سے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف افغان عوام اور منتخب حکام ہی کر سکتے ہیں۔

حمداللہ محب نے کہا کہ افغان عوام دیرپا امن کے خواہاں ہیں اور وہ کسی بھی عجلت پسندانہ سمجھوتے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا ابوظہبی میں تین روزہ اجلاس بدھ کو ختم ہو گیا اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے طالبان سے چھے ماہ کی فائربندی اور افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شام میں داعش کو شکست دینے کا اعلان

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے