ہندوجمخانہ, کی, حدود میں, تعمیرات, پر پابندی

ہندوجمخانہ کی حدود میں تعمیرات پر پابندی

کراچی: جسٹس گلزار احمد کی سربراہی می سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ہندوجمخانہ کی حدود میں تعمیرات پر پابندی سے متعلق شری رتھیشور ماہا دیو ویلفیئر کی درخواست پر سماعت کی

عدالت عظمیٰ نے ورثے کی عمارت کے احاطے کو خالی نہ کرانے اور ناپا کو کسی اور جگہ منتقل نہ کرنے پر سندھ حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت کے اظہار برہمی پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ناپا کو متبادل جگہ فراہم کرنے میں حکومتی ناکامی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کے پاس اپنے دفاتر کے قیام کے لیے زمین کی کمی ہے۔
اس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اگر ضرورت پڑے تو حکومت ناپا کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منتقل کرسکتی ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کس طرح ورثے کی عمارت کو اس کے اصل مقصد کے علاوہ کس طرح کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور حکومت نے جمخانہ کی عمارت سے ناپانہ کو منتقل کرنے اور متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
جسٹس گلزار نے قانونی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس طرح تو کسی بھی جگہ پر کمرشل عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ورثے کی عمارت کو کسی بھی قیمت پر خالی کرایا جائے اور قانونی افسر صوبائی حکومت کی جانب سے ناپا کو متبادل جگہ فراہم کرنے اور اسے ہندوجم خانہ سے منتقل کرنے سے متعلق جواب جمع کرائے۔
2014 میں شری رتھیشور ماہا دیو ویلفیئرنے ایڈووکیٹ نیل کیشو کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا تھا اور کہا تھا کہ ورثے کی عمارت کراچی کی ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے اور تقسیم سے پہلے جمخانہ عمارت ہندوؤں کی سماجی اور مذہبی رسومات کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن تقسیم کے بعد حکومت نے اسے متروکہ وقف املاک کے دور پر لے لیا۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ ناپا کو عمارت چھوڑنے کی ہدایت کرے اور اسے ہندو کمیونٹی کو واپس کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا تیسراکورونا ٹیسٹ منفی آگیا ، وہ 17روز تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے