محسن داوڑ اور, علی وزیر, کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ, سے فوری طور, نکال دیے, جائیں

محسن داوڑ اور علی وزیر کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے فوری طور نکال دیے جائیں

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے فوری طور نکال دیے جائیں

بدھ کو ہی وزارت داخلہ کے حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے ہی پشتون تحفظ موومنٹ کے دونوں رہنماؤں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔
تاہم وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کو بدلتے ہوئے اب وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ دونوں نام فوری طور پر اس فہرست سے نکال دیے جائیں۔
ابھی تک اس فیصلے کے بارے میں زیادہ معلومات کا تبادلہ میڈیا سے نہیں کیا گیا لیکن بدھ کو اس معاملے پر سوشل میڈیا پر حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ محسن داوڑ اور علی وزیر نے اپنے نام ای سی ایل میں شامل کیے جانے پر قومی اسمبلی میں ایک تحریک استحقاق بھی جمع کروائی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ جس مقدمے کو بنیاد بنا کر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے اس مقدمے میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے۔
محسن داوڑ اور علی وزیر کا موقف تھا کہ اگر ایف آئی آر میں نام ہونے کو بنیاد بنا کر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے تو پھر وزیر اعظم عمران خان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا جائے کیونکہ ان کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔
ان دونوں ارکانِ اسمبلی کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کے بارے میں وزارت داخلہ کے خصوصی سیکرٹری ڈاکٹر عامر نے انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا۔
تاہم سیکرٹری نے قائمہ کمیٹی کو یہ نہیں بتایا کہ کابینہ کے کون سے اجلاس میں ان دونوں ارکان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی تھی۔
داخلہ امور کے وزیر مملکت شہر یار آفریدی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ جب ریاست کے اداروں کو چیلنج کیا جائے گا تو حکومت کوئی بھی اقدام اُٹھانے سے دریغ نہیں کرے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مصطفی کھوکھر کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں مذکورہ دونوں ارکان اسمبلی کو شرکت کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
محسن داوڑ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ای سی ایل میں ان کا نام 29 نومبر کو ڈالا گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں اور دوسرے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حامیوں کو دوہا جانے والی پرواز سے آف لوڈ کیا گیا جس پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ ان دونوں ارکان کے نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود صرف عدالت کے حکم کے مطابق دونوں افراد کو باہر جانے سےروکا گیا۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر انوسٹیگیشن مظہر کاکا خیل نے کمیٹی کو بتایا کہ جتنی دیر میں ای سی ایل متحرک ہوتی ہے اتنی دیر میں ملزمان نکل جاتے ہیں اس لیے لوگوں کے نام پی آئی این ایل میں ڈالتے ہیں جو کہ فوری طور پر متحرک ہوجاتا ہے۔
شہریار آفریدی نے انسانی حقوق کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بارہا محسن داوڑ اور علی وزیر کے پاس گئے کہ ماضی میں جو بھی غلط فہمیاں تھیں ان کو ختم کرنا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے ان دونوں ارکان کے نام پہلے ای سی ایل میں شامل نہیں تھے اور اس ضمن میں اُنھوں نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سمیت تمام متعلقہ اداروں سے پوچھا تھا لیکن کسی نے بھی ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈلوایا۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ ایک جگہ پر نفرت انگیز تقاریر کی گئیں تھیں جس کی بنا پر ان دونوں افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔
اُنھوں نے کہا کہ جب وہ ایس پی طاہر داوڑ شہید کی لاش لینے کے لیے گئے تو افغان قبائل نے لاش دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ یہ لاش محسن داوڑ کے حوالے ہی کریں گے۔
شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ افغان جرگے کے افراد نے کہا کہ وہ منسٹر سے نہیں بلکہ پی ٹی ایم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
داخلہ امور کے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اختیارات تھے کہ وہ محسن داوڑ کو روک لیتے لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔
محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے طاہر داوڑ کے قتل کے بارے میں ایک فیصد بھی تحقیق نہیں کی۔ اُنھوں نے کہا کہ پولیس کو شاید پتہ تھا کہ کس نے اغوا کیا اس وجہ سے انہوں نے تفتیش شروع تک نہیں کی۔
پشتوں تحفظ موومنٹ کے ایک اور رکن علی وزیر نے کہا کہ انتخابات سے پہلے اُنھیں ایک کرنل کا فون آیا اور کہا کہ عمران خان اُن سے بات کرنا چاہتے ہیں جس پر اُنھوں نے فوجی افسر سے کہا کہ وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے ہاں اگر عمران خان ٹیلی فون کریں تو وہ ان سے بات کریں گے۔
علی وزیر نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اُنھیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کا کہا جس پر انھوں نے ٹکٹ لینے سے انکار کردیا۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کی طرز سیاست سے نالاں ہے اور فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس جماعت کی قیادت پر اپنی ناراضگی کا اظہار متعدد بار کیا ہے۔
حال ہی میں صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے علاقوں جنوبی وزیر ستان اور شمالی وزیرستان میں اس جماعت کا ایک قابل ذکر ووٹ بینک موجود ہے۔ مبصرین کے مطابق اس جماعت کی حمایت میں صوبہ بلوچستان میں بھی اضافہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز شمالی اور جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے راہ نجات اور ضرب عضب کے نام سے آپریشن بھی کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے