,نریندر مودی, سے, ملنے, وال, فلمی وف, می, ایک, بھی, خاتون, نہ, ہونے ,پر ,ہنگامہ

نریندر مودی سے ملنے والے فلمی وفد میں ایک بھی خاتون نہ ہونے پر ہنگامہ

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری بھی کہا جاتا ہے اور بولی وڈ فلم سازوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی فلم انڈسٹری دنیا کی سب سے بڑی سیکولر فلم انڈسٹری ہے۔

بولی وڈ میں خواتین فلم پروڈیوسرز و ڈائریکٹرز کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے اور حالیہ چند سالوں میں خواتین کی بنائی گئی فلموں نے کمائی اور کامیابی کے نئے ریکارڈز بھی بنائے۔

تاہم بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے والے ایک فلمی وفد میں ایک بھی خاتون فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار نہ ہونے کی وجہ سے بھارت میں شور مچ گیا اور حکومت سمیت فلمی شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

زرداری کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان ، فواد چوہدری

وزیر اعظم مودی نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ ان سے فلم انڈسٹری کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں مختلف موضوعات پر بات کی گئی۔

اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ فلمی وفد سے ہونے والی ملاقات میں شوبز انڈسٹری کی مصنوعات پرعائد ٹیکس پر بھی بات کی گئی اور وفد نے انہیں ان کے شعبے کی جانب سے حکومت کی دی جانے والی ٹیکس پر بھی معلومات دی گئی۔

مودی نے فلم انڈسٹری کی تعریف بھی کی اور کہا کہ شوبز انڈسٹری عوام کو تفریح فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

نریندر مودی کے بعد فلم ساز کرن جوہر نے بھی ٹوئیٹ کی اور بتایا کہ وہ بھی وفد میں شامل تھے۔

  مودی کے ساتھ اپنی تصویر بھی شیئر کی۔

مودی کی جانب سے شیئر کی گئی فلمی وفد کی تصویر میں فلم کمپنیوں کے مالکان، پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کو دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اس وفد میں کوئی بھی خاتون موجود نہیں تھی۔

مودی کی ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے خاتون فلم ساز الن کریتا شری واستیو نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ 2018 میں نریندر مودی سے ملاقات کرنے والے فلمی وفد میں خواتین کی بھرپور نمائندگی کو دیکھا جاسکتا ہے۔

ان کی جانب سے ٹوئیٹ کیے جانے کے بعد کئی اور خواتین نے بھی اس ملاقات کی ٹوئیٹس کیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ فلمی وفد نہیں بلکہ صرف مرد فلم سازوں کا وفد ہے، ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت کی فلم انڈسٹری میں کئی اچھی، بہادر اور ذہین فلم ساز خواتین بھی موجود ہیں۔

رانی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ کچھ ہفتے پہلے بھی ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا تھا اور اب بھی حالات ایسے ہی ہیں، کچھ نہیں بدلا۔

نارائنی باسو نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ مرد حضرات کا وفد مرد حضرات کے خیالات پیش کر رہا ہے۔

کئی ٹوئٹر صارفین نے بھی اس ملاقات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فلمی وفد میں ایک بھی خاتون نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

 

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے