حکومت, کی ساکھ اس پر, منحصر ہے کہ, وہ کتنی, قانون سازی, کرتی ہے

حکومت کی ساکھ اس پر منحصر ہے کہ وہ کتنی قانون سازی کرتی ہے

اسلام آباد:’جو اپوزیشن کے پاس کمیٹیاں تھیں وہ ان کے پاس (رہیں گی) اور جو حکومت کے پاس تھیں وہ (موجودہ) حکومت کے پاس جائیں گی

نھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ اجلاس تک قائمہ کمیٹیاں تشکیل پا جائیں
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر حزبِ اختلاف سے اب ’کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے’ جبکہ دونوں جانب مسئلہ صرف میڈیا اور اخباروں کی حد تک ہی ہے۔
اپوزیشن نے غیر اہم قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان میں جولائی میں ہونے والے انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی اور حکومت سازی کے بعد سے تاحال قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے ایوان میں قانون سازی کا عمل بھی شروع نہیں ہو سکا۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت قائدِ حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو نہ دینے کے فیصلے کے باعث حزب اختلاف نے ان کمیٹیوں میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے کے حوالے سے وزیراعظم کی مخالفت سے متعلق سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ‘وزیراعظم کا اپنا نقطہ نظر تھا، حزبِ اختلاف کا اپنا، میں نے دونوں کو انگیج کیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔ وزیراعظم نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے مقاصد کے لیے (قائد حزب اختلاف کے حق میں ) فیصلہ کیا’۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو دلائل کے ساتھ قائل کیا۔
اس سوال پر کہ اس فیصلے کو پی ٹی آئی اور خصوصاً وزیر اعظم عمران خان کا یو ٹرن قرار دیا جا رہا ہے اور بظاہر اس سے پی ٹی آئی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے، اسد قیصر نے اسے یو ٹرن نہیں بلکہ ‘ایڈجسٹمنٹ’ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ‘اچھا لیڈر قوم کے حالات دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ بہتر کیا ہو سکتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی ساکھ اس پر منحصر ہے کہ ہم کتنی قانون سازی کرتے ہیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گذشتہ ہفتے ہی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹی ہے۔
اس سے قبل وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف رہا ہے کہ چونکہ گذشتہ حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی ہی رہی ہے، تو میاں شہباز شریف کیسے اپنی ہی حکومت کے خلاف آڈٹ پیراز کی چھان بین کرسکیں گے؟
س سوال پر کہ حکومت کی تشکیل کے چار ماہ بعد بھی قانون سازی کا آغاز نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ محض 100 دنوں میں قانون سازی کی امید کی جا رہی ہے۔
’اگر کوئی ہماری کارکردگی دیکھنا چاہتا ہے تو ہماری کارکردگی پانچ سال پر محیط ہو گی، ہم سیاسی اور معیاری قانون سازی کریں گے اور یہی ہماری اولین ترجیح ہو گی’۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے حالیہ اجلاسوں میں پانی، معیشت اور دہشت گردی جیسے بڑے معاملات پر بحث ہوئی اور قراردادیں منظور ہوئیں۔
اس سوال پر کہ کن ایشوز پر قانون سازی کے لیے کام کا آغاز ہو چکا ہے تو انہوں نے کہا کہ سول پروسیجر ایکٹ اور نیب پر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کام شروع کیا گیا ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ’اس وقت ایوان میں پولرائزیشن بلند ترین سطح پر ہے‘ اور ان کی کوشش ہے کہ وہ حکومت اور حزب اختلاف کو ایک میز پر لے آئیں۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اچھی اپوزیشن ملی ہے اور اپوزیشن مشکل ہو تو حکومت کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
‘ہم پر تنقید ہو رہی ہے اور ہم اس کا جواب بھی دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف احتجاج بھی کرتی ہے جو ان کا قانونی حق ہے۔ میری کوشش ہے کہ ان کو اس سطح پر لاؤں کہ وہ اپنا نقطہ نظر بھی دیں، احتجاج بھی کریں، لیکن پارلیمانی آداب اور اسمبلی کے رُولز کے اندر رہتے ہوئے یہ سب کریں۔
سپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کے لیے پارلیمان میں ایک گھنٹے کا وقفہ سوالات مختص کرنے کے لیے مجوزہ ترمیم سے متعلق کہا کہ قومی اسمبلی کے رُولز میں ترمیم کے لیے قرارداد پیش کی گئی لیکن حزب اختلاف کی خواہش تھی کہ یہ معاملہ پہلے کمیٹی میں زیرِ بحث لایا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تاخیر کی وجہ بھی کمیٹی کی تشکیل نہ ہونا ہی ہے۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے یہ ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔
اسد قیصر نے مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے کہا کہ شہباز شریف اور سعد رفیق کا معاملہ مختلف ہے۔
شہباز شریف قائد حزبِ اختلاف ہیں، میں نے اسمبلی بھی چلانی ہے، میں نے مختلف سٹیک ہولڈرز کو انگیج بھی کرنا ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ چیزوں کو پراپر ٹریک پر لے آؤں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں مشاورت کی ضرورت تھی۔ ‘کچھ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں، اس لیے میں چاہتا تھا کہ اس معاملے پر مشاورت ہو، اور غلطی کی گنجائش نہ ہو۔
خواجہ سعد رفیق کو گذشتہ ہفتے نیب نے بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف بھی ان دنوں نیب کے ایک مقدمے میں گرفتار ہیں تاہم اُنھیں قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا جاتا ہے۔
مسلم لیگ نواز نے سپیکر کو ایوان زیریں کے رواں اجلاس کی کارروائی میں خواجہ سعد رفیق کی شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست دی ہے جس پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا اور مسلم لیگ ن نے فیصلے تک ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے