جنگ بندی ,کا معاہدہ نافذ العمل, ہونے کے, چند لمحوں, بعد ہی, ٹوٹ گیا

جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے چند لمحوں بعد ہی ٹوٹ گیا

یمن: متحارب فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ وہ پیر کو نصف شب سے اس ساحلی شہر میں جنگ بندی کر لیں گے جس کے بعد یہاں امداد کی آمد کا سلسلہ شروع ہو سکے گی

فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جمعرات کو سویڈن میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا تھا جس کے نتیجے میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یمن میں چار برس سے جاری خانہ جنگی اپنے اختتام کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
اس خانہ جنگی اور بیرونی حملوں کی وجہ سے یمن میں بچوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک میں اس دور کا بد ترین انسانی المیہ پیدا ہو چکا ہے۔
جمعے کو اس معاہدے کے نفاذ میں اس وقت تاخیر ہوئی تھی جب کچھ حملوں اور جھڑپوں کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
سعودی عرب، ایران اور یمن کی حکومتوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا اور یمن کے وزیرِ خارجہ خالد الیمانی نے کہا تھا کہ اگر یہ برقرار رہتا ہے تو یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑا قدم ہو گا۔
ایک سعودی سفارتکار کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس معاہدے کے حامی ہیں جس کے تحت فریقین اپنے فوجی حدیدہ سے نکال لیں گے تاکہ امداد وہاں لائی جا سکے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی اس معاہدے کو امیدا افزا قرار دیا تھا جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ اب امن کا قیام ممکن ہے۔
تاہم مبصرین نے اس وقت بھی خبردار کیا تھا کہ سویڈین میں امن کانفرنس میں سامنے آنے والے اس غیرمتوقع نتیجے کے باوجود بھی فریقین میں تناؤ پایا جاتا ہے۔
حدیدہ یمن کے دارالحکومت صنعا سے 140 کلومیٹر مغرب میں واقع ملک کا چوتھا بڑا شہر اور تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔
باغیوں نے 2014 میں اس پر قبضہ کیا تھا اور اب اس پر کنٹرول کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ریاستوں کے اتحاد نے رواں برس جون سے چڑھائی کی ہوئی ہے لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
حدیدہ پر قبضے کے لیے جنگ کی وجہ سے یہاں کی بندرگاہ عملی طور پر بند ہوچکی ہے جس کی وجہ سے حوثیوں کے زیرِ قبضہ یمن کے شمالی علاقوں میں امدادی سامان پہنچ نہیں پا رہا ہے۔
یہ بندرگاہ ملک کی دو تہائی آبادی کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیثت رکھتی ہے جو گزر بسر کے لیے درآمد شدہ خوراک، ایندھن اور ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔
اس وقت یمن میں دو کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ یمنی باشندوں کو کسی نہ کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے جبکہ ان میں سے 80 لاکھ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ انھیں اگلے وقت کا کھانا مل پائے گا بھی کہ نہیں۔
یمن میں حالات سن 2015 سے بدتر ہوتے گئے تھے جب حوثیوں نے یمن کے صدر عبد ربو منصور ہادی کی فوجوں کو شکست دے کر ملک کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ صدر منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔
حوثیوں کے بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے، جسے سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں نے ایران کا خطے میں نائب تصور کیا، فوری طور پر یمن میں فوجی مداخلت کرکے صدر منصور ہادی کی حکومت کو بحال کیا۔ لیکن ان کی عملداری ملک کے جنوبی حصے پر ہو سکی۔
اس کے بعد سے منصور ہادی اور حوثیوں کے درمیان ایک جنگ جاری ہے جس میں سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فوجی بمباری کرتا چلا آرہا ہے۔ اس بمباری سے بچوں سمیت ہزاروں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔
اب تک اس صرف اس جنگ کی وجہ سے اور سعودی بمباری کی وجہ سے 6,660 شہری ہلاک ہوئے ہجبکہ 10,560 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دسیوں ہزاروں افراد قحط، غذائیت کی کمی اور بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے ایک مرتبہ پھر خبرادار کیا ہے کہ ہر ہفتے ہیضے کے دس ہزار سے زائد مریض رپورٹ کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے