مذاکرات, کروانے, کے لیے, پاکستان کی کوششوں کا, خیر مقدم

مذاکرات کروانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے یہ خیر مقدمی بیان وزیراعظم عمران خان کے بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا انتظام کیا البتہ انہوں نے اپنے بیان میں وقت اور جگہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی تھی

وائس آف امریکا (دری سروس) نے اتوار کو یہ خبر دی کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد پیر کے روز (آج) اسلام آباد میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کریں گے یاد رہے کہ گزشتہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوئے تھے۔
اس ضمن میں کابل میں موجود امریکی سفارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستانی حکومت کی جانب سے طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات کروانے کی کوششوں سمیت وسیع تر تعاون کے فروغ کے لیے کیے گئے ہر اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں جاری تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کے لیے طالبان سمیت تمام فریقین سے ملاقات کی اور آئندہ بھی کریں گے۔
وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق 2 ہفتے قبل امریکی سفیر خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل میں تعاون کے لیے پاکستانی حکام سے درخواست کی تھی۔
اس سلسلے میں 2 روز قبل (ہفتے کو) پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے طالبان سے ہتھیار پھینک کر مذاکرات کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ جب پاکستان ان مذاکرات میں مدد کررہا ہے تو حکومتِ افغانستان، طالبان اور دیگر گروہوں کو اپنے طور پر سمجھوتے اور مذکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔
زلمے خلیل زاد کے 18 روز پر محیط دورے میں سے 14 دنوں میں انہوں نے پاکستان، افغانستان، روس، ترکمانستان، ازبیکستان اور بیلجیئم کا دورہ کیا جبکہ وہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور قطر جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ جب زلمے خلیل زاد کی طالبان سے ملاقات ہوگی بلکہ وہ دوحا میں مذاکرات کے 2 ادوار میں بھی شرکت کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے